خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 37

خطبات مسرور 37 $2004 طرح مرغی نہایت محنت اور مشقت کے ساتھ ہر روز انسان کے واسطے انڈا دیتی ہے۔ایسا ہی ایک پرند کی مہمان نوازی پر ایک حکایت ہے کہ دو پرندے تھے۔درخت پر ان کا گھونسلہ تھا۔درخت کے نیچے ایک مسافر کو رات آ گئی۔جنگل کا ویرانہ اور سردی کا موسم۔درخت کے اوپر ایک پرند کا آشیانہ تھا۔نر اور مادہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ یہ غریب الوطن آج ہمارا مہمان ہے اور سردی زدہ ہے۔اس کے واسطے ہم کیا کریں؟ سوچ کر ان میں یہ صلاح قرار پائی کہ ہم اپنا آشیانہ تو ڑ کر نیچے پھینک دیں اور وہ اس کو جلا کر آگ تا پے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ بھوکا ہے۔اس کے واسطے کیا دعوت تیار کی جائے۔اور تو کوئی چیز موجود نہ تھی۔ان دونوں نے اپنے آپ کو نیچے اس آگ میں گرا دیا تا کہ ان کے گوشت کا کباب ان کے مہمان کے واسطے رات کا کھانا ہو جائے۔اس طرح انہوں نے مہمان نوازی کی ایک نظیر قائم کی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :سو ہماری جماعت کے مومنین اگر ہماری آواز کو نہیں سنتے تو اس مرغی کی آواز کو سنیں۔مگر سب برابر نہیں۔کتنے مخلص ایسے ہیں کہ اپنی طاقت 66 سے زیادہ خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔خدائے تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔“ ( ملفوظات جلد ٤ صفحه ٥٨٣،٥۸۲ بدر ۱۸ دسمبر (519۔0 اب بھی جن لوگوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مالی قربانیوں میں حصہ لیا ہے اور لے رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا تعالیٰ سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس