خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 413
$2004 413 خطبات مسرور کا گروہ ہی تھا۔آپ کی گہری نظر نے یہ دیکھ لیا کہ پڑھنے پڑھانے والے بھی نیکیوں پر قائم رہنے والے ہیں، تقویٰ پر چلنے والے ہیں اور تقویٰ کے ساتھ پھر غور فکر اور تدبر سے علم سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لئے آپ ان میں بیٹھ گئے۔ایک اور جگہ روایت ہے کہ اصل میں علم وہی ہے جس کے ساتھ تقویٰ ہو۔تو اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کبھی کسی قسم کا علم بھی تقوی سے دور لے جانے والا نہ ہو۔علم وہی ہے جو تقویٰ کے قریب ترین ہو اور تقویٰ کی طرف لے جانے والا ہو، خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ صحیح اور حقیقی فقیہ وہ ہے جولوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید نہیں ہونے دیتا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا جواز بھی مہیا نہیں کرتا اور نہ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بے خوف بناتا ہے۔قرآن کریم سے ان کی توجہ ہٹا کر کسی اور کی طرف انہیں راغب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔یا درکھو علم کے بغیر عبادت میں کوئی بھلائی نہیں اور سمجھ کے بغیر علم کا دعویٰ درست نہیں۔(اگر سمجھ نہیں آتی صرف رٹا لگالیا تو وہ علم علم نہیں ہے ) ، اور تدبر اور غور وفکر کے بغیر محض قراءت کا کچھ فائدہ نہیں۔(سنن الدارمي - المقدمه باب من قال العلم الخشية وتقوى الله تو فرمایا کہ ایسا علم جو عمل سے خالی ہے ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔علم تو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ معیار سکھانے کے لئے حاصل کیا جاتا ہے۔اگر پھر علم حاصل کرنے کے باوجو د وحشی کا وحشی رہنا ہے تو ایسے علم کا اسے کیا فائدہ۔جیسا آج کل کے علماء دعوی کرتے ہیں اور پھر ان کی حرکتیں ایسی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالی محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔یہعلم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اس سے خشیت الہی پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر: ۲۹ )۔اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوئی تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه ١٩٥ الحکم جلد ۷ صفحه ۲۱) ـ 66