خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 321

$2004 321 خطبات مسرور جواس کو نیکیوں کا وارث بنا دیتا ہے۔یہی باعث ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گنا ہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔یعنی تو بہ سے پہلے کے گناہ اس کو معاف ہو جاتے ہیں اس وقت سے پہلے جو کچھ بھی اس کے حالات تھے اور جو بے جا حرکات اور بے اعتدالیاں اس کے چال چلن میں پائی جاتی تھیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد صلح باندھا جاتا ہے اور نیا حساب شروع ہوتا ہے“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۲ احکام ۷ اکتوبر ۱۹ تو فرمایا تو بہ کے ذریعے سے پاکیزگی کا بیج ہے جو ہمارے دلوں میں بویا جاتا ہے۔تو اس زمانے میں بھی جبکہ ہر طرف دنیا میں اتنا زیادہ گند ہو چکا ہے، ہمیں خاص طور پر احمدیوں کو اپنے اندر پاکیزگی کے بیج کی پرورش کے لئے بہت زیادہ کوشش اور استغفار کی ضرورت ہے۔تا کہ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرے اور دل صاف کرے اور اس طرح ہمیں اپنے دل کی زمین کو تیار کرنا ہوگا اور اس میں اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے نیکی کے بیچ کی پرورش کرنی ہوگی جس طرح ایک زمیندار جب اپنی فصل کے لئے بیج کھیت میں ڈالتا ہے تو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنے کے لئے وہ بعض دفعہ بیج ڈالنے سے پہلے ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جو جڑی بوٹیوں کو اگنے میں مدد دیتے ہیں، تا کہ جو بھی جڑی بوٹیاں ہیں وہ ظاہر ہو جائیں۔اور جب وہ ظاہر ہو جائیں تو ان کو تلف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو اسی طرح ہمیں بھی اپنے گناہوں کی جڑی بوٹیوں کے بیج کو بھی ظاہر کرنا پھر اس کو تلف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے ، اپنے گناہوں پر نظر رکھنی چاہئے۔تا کہ نیکی کا بیج صحیح طور پر نشو ونما پا سکے۔جب نیکی کا بیج پھوٹتا ہے، بڑھنا شروع ہوتا ہے تو اس کی پھر اس طرح ہی مثال ہے کہ پھر شیطان بعض حملے کرتا ہے کیونکہ وہ بھی اپنی برائیوں کے بیج پھینک رہا ہوتا ہے یا کچھ نہ کچھ بیچ برائی کا بھی دل میں رہ جاتا ہے تو جس طرح فصل لگانے کے بعد زمیندار دیکھتا۔