خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 322
$2004 322 خطبات مسرور ہے کہ بعض دفعہ فصل کے ساتھ بھی دوبارہ جڑی بوٹیاں اگنی شروع ہو جاتی ہیں تو پھر زمیندار کئی طریقے استعمال کرتا ہے۔بوٹی مار دوائیاں پھینکتا ہے یا گوڈی کرتا ہے، زمین صاف کرتا ہے تا کہ ان بوٹیوں کو تلف کیا جائے تو اس طرح انسان کو بھی اپنے اندر نیکی کے بیج کو خالص ہو کر بڑھنے اور پنپنے کا ماحول میسر کرنے کے لئے استغفار کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل ما نگتے ہوئے اس کی پرورش کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تو جب اس طریق سے اپنے اندر نیکیوں کے بیج کو ہم پروان چڑھائیں گے اور پروان چڑھانے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پھلے گا اور پھولے گا اور پھر بڑھے گا اور ہمارے تمام وجود پر نیکیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اور ہر برائی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ختم ہو جائے گی۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ہما وقت استغفار کرتارہتا ہے اللہ تعالیٰ ہر تنگی کے وقت اس کے نکلنے کے لئے راہ پیدا کر دیتا ہے اور ہر غم سے نجات دیتا ہے اور اسے اس راہ سے رزق عطا فرماتا ہے جس کا وہ گمان بھی نہ کر سکے۔(ابو داؤد - كتاب الوترباب في الاستغفار) وو پھر ایک اور روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی بے آب و گیاہ جنگل میں گم ہو جائے اور اس اونٹنی پر اس کے کھانے پینے کا سامان لدا ہوا ہو وہ اس کو اتنا ڈھونڈے وہ اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جائے اور پھر کسی درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور دیکھے کہ اس کی اونٹنی کی لگام کسی درخت کی جڑوں سے انکی ہوئی ہے۔تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! وہ شخص تو بہت خوش ہوگا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تو بہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی گمشدہ اونٹنی مل جائے“۔(بخاری کتاب الدعوات باب التوبه) تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی خوشی کا حال اپنے بندوں کی تو بہ کی طرف مائل ہوتے دیکھ کر اور