خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 320

خطبات مسرور 320 حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔$2004 براهین احمدیه روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ١٨٧،١٨٦ ـ حاشیه) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے بچی تو بہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا یعنی گناہ کے محرکات اسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے اور گناہ کے بد نتائج سے اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی کہ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ» که اللَّہ تعالیٰ تو به کرنے والوں اور پاکیزگی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! تو بہ کی علامت کیا ہے آپ نے فرمایا ندامت اور پریشانی علامت تو بہ ہے۔(رسالہ قشیریہ باب التوبه) سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” سچی بات ہے کہ تو بہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ کچی تو بہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے۔پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لئے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔اس طرح سے خدا تعالیٰ کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا۔اور پھر اس پر کوئی خوف اور حزن نہیں ہوگا“۔ملفوظات جلد سوم صفحه ٥٩٤ - ٥٩٥ الحكم ۱۰ مارچ ١٩٠٤ء) پھر آپ نے فرمایا کہ: ” حقیقی تو بہ انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور اس سے پاکیزگی اور طہارت کی توفیق ملتی ہے۔جیسے اللہ کا وعدہ ہے کہ ﴿وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ) یعنی اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے نیز ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گناہوں کی کشش سے پاک ہونے والے ہیں۔تو بہ حقیقت میں ایک ایسی شے ہے کہ جب وہ اپنے حقیقی لوازمات کے ساتھ کی جاوے تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اندر پاکیزگی کا بیج بویا جاتا ہے۔