خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 248

$2004 248 خطبات مسرور پیتھک کمپلیکس ہے جس میں کلینک بھی ہے دوائیاں تیار کرنے کی لیبارٹری بھی ہے اور بوتلیں وغیرہ بنانے کی ایک چھوٹی سی فیکٹری بھی ہے۔ماشاء اللہ یہ ادارہ بھی انسانیت کی بڑی خدمت کر رہا ہے۔پھر مختلف شہروں میں مساجد ، سکول، ہسپتال کے وارڈز وغیرہ کے افتتاح ہوئے۔مختصراً یہ کہ گھانا میں اس دورہ کے دوران 13 مساجد کا افتتاح ہوا اور دو کا سنگ بنیا د رکھا گیا اور سات متفرق عمارات کا افتتاح ہوا یا سنگ بنیا درکھا گیا۔ٹمالے ایک جگہ ہے جو نارتھ میں گھانا کا ایک بڑا شہر ہے۔اس علاقے میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔یہاں ایک بہت بڑی دو منزلہ مسجد کا افتتاح ہوا۔اس جگہ چند سال پہلے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اتنی بڑی مسجد بن سکتی ہے اور پھر نمازی بھی آ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں بیعتیں بھی کافی ہوئی ہیں الحمد للہ۔اور یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔یہاں دو افراد نے بیعت کا اظہار کیا اور جماعت میں شامل ہوئے۔ہمارے قافلے کے بعض لوگوں کی گاڑیوں کے ڈرائیور تھے انہوں نے دیکھا اور کہا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم احمدیت قبول کر لیں۔پھر وہاں مسجد میں نماز مغرب وعشاء کے بعد دستی بیعت ہوئی۔باقی جوموجود تھے انہوں نے بھی بیعت کی۔ٹمالے سے بورکینا فاسو کا سفر ہم نے بذریعہ سڑک کیا۔اور راستے میں دو مساجد کا افتتاح بھی ہوا۔ایک مسجد تو عین گھانا کے بارڈر سے چند گز کے فاصلے پر ہے اور ایک مخلص احمدی نے وہاں یہ مسجد بنائی ہے۔اس طرح جو بھی بارڈر کر اس کرتا ہے آنے والے یا جانے والے کیونکہ کافی آمد ورفت رہتی ہے اور عمومی طور پر دونوں طرف ان علاقوں میں مسلمان ہیں ان کی نظر ہماری مسجد پر ضرور پڑتی ہے اس لئے وہ نماز پڑھنے کے لئے ہماری مسجد میں آجاتے ہیں۔بذریعہ سڑک جانے کا پروگرام بھی اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر سے ہی بنا لگتا ہے۔کیونکہ پہلے جو گھانا والوں نے پروگرام بنایا تھا اور اس کی اپروول ہو گئی تھی ، اس کے مطابق تو دورہ نارتھ تک کا مکمل کرنے کے بعد ہمیں پھر واپس اکرا آنا تھا اور وہاں سے بائی ایئر پھر بورکینا فاسو جانا تھا لیکن روزانہ فلائیٹ نہیں جاتی بلکہ دودن جاتی