خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 249
$2004 249 خطبات مسرور ہے ان میں سے ایک جمعہ کا دن تھا۔تو وکیل التبشیر ماجد صاحب نے مجھے کہا کہ جمعہ جلدی پڑھ کے فوراً ہی ایئر پورٹ جانا ہو گا اس پر مجھے کچھ انقباض ہوا، میں نے کہا اس طرح نہیں جانا بلکہ بعض شہر جو انہوں نے پروگرام میں نہیں رکھے ہوئے تھے اور میرے علم میں تھے میں نے کہا وہ بھی دیکھ کے جائیں گے اور بائی روڈ جائیں گے۔بہر حال اس کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ چند مزید مساجد کا افتتاح بھی ہو گیا لیکن اصل بات اس میں یہ ہے کہ لندن سے سفر شروع کرنے سے چند دن پہلے ماجد صاحب نے بتایا کہ بورکینا فاسو کے مبلغ نے انہیں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک خواب یاد کرائی ہے۔جو ماجد صاحب کو بھی یاد آ گئی کہ حضور نے دیکھا تھا کہ وہ کاروں کے ذریعے سے بائی روڈ گھانا سے بورکینا فاسو میں داخل ہوئے ہیں اور کوئی اسماعیل نامی آدمی بھی ان کو وہاں ملتا ہے بارڈر پر یا کراس کر کے۔اس پر حضور نے بعض اسماعیل نامی احمدیوں کی تصویر میں بھی منگوائی تھیں، بہر حال پتہ نہیں کوئی ملا کہ نہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک الہی تقدیر تھی کہ ہم بذریعہ کار بورکینا فاسو داخل ہوں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہمارے قافلے میں ایک اسماعیل نامی ڈرائیور بھی تھا جس نے کچھ وقت ہماری گاڑی بھی چلائی جس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔اس ملک میں ہمارے مبلغین بھی ماشاء اللہ قربانیوں کے معیار قائم کر رہے ہیں۔وہاں جائیں تو پتہ لگتا ہے کہ واقعی لوگ قربانیاں دے رہے ہیں۔اور پھر بورکینافاسو میں جب داخل ہوئے بارڈر کراس کرنے کے بعد جو پہلا ٹاؤن آتا ہے، چند کلو میٹر پر ہی۔وہاں اس علاقے کا جو ہائی کمشنر تھا وہ استقبال کے لئے آیا ہوا تھا۔جلسہ بھی ماشاء اللہ بڑا کامیاب رہا، صرف 15 سال پہلے یہاں جماعت رجسٹر ہوئی ہے لیکن جماعت کے افراد کے ایمان واخلاص میں ماشاء اللہ ایسی ترقی ہو رہی ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے۔یہاں کیونکہ فرنچ بولنے والے ہیں اس لئے ہر تقریر یا خطبے کا ایک دفعہ فرنچ میں ترجمہ ہوتا تھا پھر اس کا مقامی زبان میں ہوتا تھا۔پھر جلسہ کے بعد ہم صحارا ڈیزرٹ کے قریب ایک قصبہ ڈوری ان کے لحاظ سے تو وہ شہر ہے بہر حال وہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے وہاں گئے وہاں بھی ایک چھوٹی سی گیدرنگ (Gathering ) تھی لوگ آئے ہوئے تھے، غریب