خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 247
$2004 247 خطبات مسرور گی۔پھر اس دوران میں یعنی اگر میں جتنے دن رہائش رہی ، وہاں قیام رہا ، پھر گھانا کے صدر صاحب سے بھی ملاقات ہو گئی پہلے تو رسمی سی باتیں ہوتی رہیں، کیونکہ یہ لوگ فطرتا بڑے روایتی رجحان رکھنے والے لوگ ہیں عموماً۔بہر حال اس کے بعد پھر بڑے خوشگوار ماحول میں بے تکلفانہ، غیر رسمی باتیں ہوئیں، اور بار بار صدر صاحب اپنے ملک کی ترقی کے لئے دعا کی درخواست کرتے رہے۔پھر جلسے کی کارروائی ہے۔وہ تو آپ لوگوں نے دیکھ ہی لی ہے۔لیکن جمعہ کے بعد جب میں سلام کہنے کے لئے لجنہ کی طرف گیا ہوں تو وہ نظارہ دیکھنے کے قابل تھا لیکن افسوس کہ کیمروں کی پہنچ سے اس وقت باہر تھا۔اس لئے کہ آپ اس کو Live دیکھ ہی نہیں سکے اور وجہ اس کی یہ تھی کہ گھانا ٹیلیویژن نے اپنی ذمہ داری لے لی تھی کہ Live کوریج ہم کریں گے۔اور ایم ٹی اے نہیں کرے گی۔اس لئے یہ وقت وہاں تھی ، بہر حال میرا خیال ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کی فلم بنائی بھی ہوگی ، لگتا تھا کہ جوش پھوٹ پھوٹ کر باہر آ رہا ہے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اخلاص و وفا کا اظہار اس طرح ہورہا تھا کہ ان کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے چہروں سے خوشی اس طرح پھوٹی پڑتی تھی کہ نا قابل بیان ہے کماسی کے مسجد کے احاطے میں عورتوں اور مردوں کا اظہار آپ نے دیکھ لیا ہے وہ کچھ دکھایا گیا تھا۔تو یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ جلسہ پر یہ اظہار زیادہ تھا یا کماسی میں۔پھر جلسہ کے بعد 100 کے قریب اماموں اور چیفوں سے بھی ملاقات تھی۔جو احمدیت قبول کر چکے ہیں اور اپنی بہت بڑی فالوانگ(Following) کے ساتھ احمدیت قبول کر چکے ہیں۔اور اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام مسیح محمدی کا پیغام اپنے اپنے علاقوں میں پھیلا رہے ہیں۔گھانا کا دوسرا بڑا شہر کماسی (Kumasi) ہے، کماسی کے قریب جماعت نے داعیان الی اللہ کی ٹریننگ اور نو مبائعین میں سے چنیدہ لوگوں کی تربیت کے لئے تا کہ وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تعلیم لے کر اپنے علاقوں میں نئے شامل ہونے والوں کو بھی سکھاسکیں۔دو عمارتیں بنائی ہیں۔اور ان عمارتوں کا تقریباً سارا خرچ بھی ایک مخلص احمدی نے ادا کیا ہے اس کے ساتھ ہی طاہر ہومیو