خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 142

$2004 142 خطبات مسرور کہ اللہ تعالیٰ تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔فوراً معاف کرنے والا حکم ان کے سامنے آ جاتا ہے اور اس کے مفسر بن جاتے ہیں۔اگلی بات بھول جاتے ہیں کہ اصلاح کی خاطر سزا دینا بھی اللہ کا حکم ہے۔ہراحمدی کو ہر وقت یہ یا درکھنا چاہئے کہ اگر اس بھیا نک معاشرے میں اس نے بھی اپنا رویہ ٹھیک نہ کیا تو پھر حضرت اقدس مسیح موعود کے ارشاد کے مطابق وہ جماعت سے کاٹا جائے گا۔بہر حال اصلاح کی خاطر عفو سے کام لینا مستحسن ہے۔لیکن اگر بدلہ لینا ہے تو ہر ایک کا کام نہیں ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔یہ قانون کا کام ہے کہ اصلاح کی خاطر قانونی کارروائی کی جائے یا اگر نظام جماعت کے پاس معاملہ ہے تو نظام خود دیکھے گا ہر ایک کو دوسرے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت بہر حال نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ معاشرے میں صلح جوئی کی بنیاد پڑے صلح کی فضا پیدا ہو۔عموماً جو عادی مجرم نہیں ہوتے وہ درگزر کے سلوک سے عام طور پر شرمندہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں اور معافی بھی مانگ لیتے ہیں۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے فرماتے ہیں کہ مومنون کو یہ عام ہدایت دی ہے کہ انہیں دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنا اور ان کے قصوروں سے درگزر کرنا چاہئے مگر معاف کرنے کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔بعض لوگ نادانی سے ایک طرف نکل گئے ہیں اور بعض دوسری طرف۔وہ لوگ جن کا کوئی قصور کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجرم کو سزا دینی چاہئے تا کہ دوسروں کو عبرت ہو اور جو قصور کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ معاف کرنا چاہئے خدا خود بھی بندے کو معاف کرتا ہے۔تو جب خدا بندے کو معاف کرتا ہے تم بھی بندوں کے حقوق ادا کرو نا۔وہی سلوک تمہارا بھی بندوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔مگر یہ سب خود غرضی کے فتوے ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا معاف کرتا ہے تو بندے کو بھی معاف کرنا چاہئے وہ اس قسم کی بات اسی وقت کہتا ہے جب وہ خود مجرم ہوتا ہے۔اگر مجرم نہ ہوتا تو ہم اس کی بات مان لیتے لیکن جب اس کا کوئی قصور کرتا