خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 143

$2004 143 خطبات مسرور ہے تب وہ یہ بات نہیں کہتا، اس طرح جو شخص اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاف نہیں کرنا چاہئے بلکہ سزاد ینی چاہئے وہ بھی اسی وقت یہ بات کہتا ہے جب کوئی دوسرا شخص اس کا قصور کرتا ہے لیکن جب وہ خود کسی کا قصور کرتا ہے تب یہ بات اس کے منہ سے نہیں نکلتی۔اس وقت وہ یہی کہتا ہے کہ خدا جب معاف کرتا ہے تو بندہ کیوں معاف نہ کرے۔پس یہ دونوں فتوے خود غرضی پر مشتمل ہیں۔اصل فتویٰ وہی ہوسکتا ہے جس میں کوئی اپنی غرض شامل نہ ہو اور وہ وہی ہے جو قر آن کریم نے دیا ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہو تو تم یہ دیکھو کہ سزا دینے میں اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا معاف کرنے میں۔(تفسیر کبیر جلد ٦ صفحه (٢٨٥ اب میں اس بارے میں احادیث سے کچھ روشنی ڈالتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی بیان کروں گا۔حضرت معاذ بن انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والوں سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا اسے بھی تو دے اور جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے تو درگزر کر۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۴۶۱) فرمایا کہ تمہارا مقام اس طرح بنے گا، تم ہر اس شخص سے جو کسی بھی طریق سے تمہارے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، تمہارے سے تعلق توڑتا ہے، تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، تمہارے ساتھ لڑنے مارنے پر آمادہ ہے تمہیں طاقت ہے تو پھر بھی تم اس سے درگزر کر و اور یہی نیکی کا اعلیٰ معیار ہے۔پھر فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ اگر تم معاف کر دو گے تو تمہاری اس حرکت کی فضیلت صرف میری نظر میں ہے یا خدا کی نظر میں ہے بلکہ یاد رکھو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی تمہاری عزت پہلے سے زیادہ قائم کرے گا کیونکہ عزت اور ذلت سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔(مسند احمد بن حنبل)