خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 929
$2004 929 خطبات مسرور انسان کو پیدا کیا گیا ہے اس کو وقت پر ادا کرنے کا حکم ہے اور جب وقت آجائے تو اس میں دیر نہیں ہونی چاہئے اسی میں ہماری بھلائی ہے۔اور پاک معاشرے کے قیام کی ضمانت بھی اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عبادت کے وقت مقرر کئے ہیں اس وقت میں ادائیگی کی جائے۔تو اس کے بعد فرمایا کہ جنازہ ہے اگر کوئی فوت ہو جائے تو اس کو دفنانے میں بھی جلدی کرنی چاہئے۔وفات شدہ کی عزت بھی اسی میں ہے۔پھر بعض خاندانوں میں دیر تک جنازہ رکھنے سے بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اس لئے جلدی دفتنا دو۔پھر فرمایا کہ عورت اگر بیوہ ہو جائے اور شادی کے قابل ہو اور اس کا ہم کفو مل جائے ، مناسب رشتہ مل جائے ، معاشرے میں جو اس عورت کا مقام ہے اس کے مطابق ہو خاندانی لحاظ سے اپنے رہن سہن کے لحاظ سے ہم مزاج ہو عورت کو پسند بھی ہو تو پھر رشتہ دار اس سلسلہ میں روکیں نہ ڈالیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کو جلد از جلد بیاہ دو۔اس سے بھی پاک معاشرے کا قیام ہوگا۔اور عورت بھی بہت سی باتوں سے جو بیوہ ہونے کی وجہ سے اس کو معاشرے کی سہنی پڑتی ہیں بچ جائے گی۔پھر بیوہ کو خود بھی اختیار دیا گیا ہے کہ خود بھی وہ جائز طور پر رشتہ کر سکتی ہے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔یہ بھی اس لئے ہے کہ وہ اپنے آپ کو تحفظ دے سکے۔اس اختیار کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے۔ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شادی کے معاملہ میں بیوہ اپنے بارے میں فیصلہ کرنے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔اور کنواری سے اجازت لی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اجازت تصور کیا جائے گا۔(سنن الدارمى - كتاب النكاح - باب استثمار البكر والثيب ) تو وضاحت ہوگئی کہ بیوہ کا حق بہر حال فائق ہے لیکن کنواری لڑکی کے بارے میں یہ شرط ہے کہ اس کا ولی اس کے بارے میں فیصلہ کرے اور وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات تو اصل میں معاشرے میں بھلائی اور امن پیدا کرنے کے لئے ہیں۔تو بیوہ کیونکہ دنیا کے تجربے سے گزرچکی ہوتی