خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 930
$2004 930 خطبات مسرور ہے دنیا کی اونچ نیچ دیکھ چکی ہوتی ہے اور الا ماشاء اللہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرسکتی ہے اس لئے اس کو یہ اختیار دے دیا۔لیکن کنواری لڑکی بعض دفعہ بھول پنے میں غلط فیصلے بھی کر لیتی ہے اس لئے اس کے رشتے کا اختیار اس کے ولی کو دیا گیا ہے۔لیکن پھر بھی اس کو یہ حق دیا گیا کہ اگر وہ اپنے ولی یا باپ کے فیصلے سے اختلاف رکھتی ہو، اس پر راضی نہ ہو تو نظام جماعت کو بتائے اور فیصلے کروالے لیکن خود عملی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔اس سے بھی معاشرے میں نیکی اور بھلائی کی بجائے فتنہ اور فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بعض لڑکیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کی کہ باپ فلاں رشتہ کرنا چاہتا ہے اور آپ نے لڑکیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔بعض دفعہ یہ ہوا کہ لڑکی نے کہا میں نہیں چاہتی۔چنانچہ ایک دفعہ اسی طرح ایک لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ ہم عورتوں کو رشتوں کے معاملہ میں کوئی حق نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا بالکل ہے۔تو اس نے کہا کہ میرا باپ میرا رشتہ فلاں بوڑھے شخص سے کرنا چاہتا ہے، یا کر رہا ہے یا کر دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں اجازت ہے۔لیکن اس نیک فطرت بچی نے کہا کہ میں صرف عورت کا حق قائم کرنا چاہتی تھی اپنے باپ کا دل تو ڑنا نہیں چاہتی۔مجھے اپنے باپ سے بہت پیار ہے۔میں اس رشتے پر بھی راضی ہوں لیکن حق بہر حال عورت کا قائم ہونا چاہئے ا س کے لئے میں حاضر ہوئی تھی۔پھر ایک دفعہ آپ نے ایک لڑکی کے باپ کا طے کیا ہوا رشتہ ( جولڑ کی کی مرضی کے خلاف تھا) نڑوا دیا۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا۔اس کا اس سے ایک بچہ بھی تھا۔بچے کے چچا نے عورت کے والد سے اس بیوہ کا رشتہ مانگا۔عورت نے بھی رضامندی کا اظہار کیا۔لیکن لڑکی کے والد نے اس کا رشتہ اس کی رضا مندی کے بغیر کسی اور جگہ کر دیا۔اس پر وہ لڑکی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی۔حضور نے اس کے والد کو بلا کر دریافت کیا۔اس کے والد نے کہا اس کے دیور سے بہتر آدمی کے ساتھ میں نے اس کا