خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 928
$2004 928 خطبات مسرور قابل نکاح ہی نہیں یا ایک کافی اولا د اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کرسکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے۔ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جائے۔ہاں اس بد رسم کو مٹادینا چاہئے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبر رکھا جاتا ہے۔(ملفوظات جلد۔پنجم صفحه 320 بدر 10 اکتوبر 1907 | آپ نے اس کی وضاحت فرما دی ، مزید کھول کر بیان فرما دیا کہ پہلی بات تو معاشرے اور عزیز رشتے داروں کو یہ حکم ہے کہ اگر کوئی شادی کی عمر میں بیوہ ہو جاتی ہے تو تم لوگ اس کے رشتے کی بھی اسی طرح کوشش کرو جیسے باکرہ یا کنواری لڑکی نوجوان لڑکی کے رشتے کے لئے کوشش کرتے ہو۔یہ تمہاری بے عزتی نہیں ہے بلکہ تمہاری عزت اسی میں ہے۔دوسری بات کہ اگر کوئی عمر کی زیادتی کی وجہ سے یا بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے یا اپنے بعض اور حالات کی وجہ سے یا کسی بیماری کی وجہ سے شادی نہ کرنا چاہے تو یہ فیصلہ کرنا بھی اس کا اپنا کام ہے۔تم ایک تجویز دے کے اس کے بعد پیچھے ہٹ جاؤ۔رشتہ کروانے کے لئے ، نہ کہ رشتہ روکنے کے لئے۔رشتہ کرنا یا نہ کرنا یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔اس کا اپنا حق ہے اس کو بہر حال مجبور نہ کیا جائے۔پھر یہ کہ معاشرے کو رشتہ داروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ زبر دستی کسی بیوہ کو ساری عمر بیوہ ہی رکھیں یا اس کو کہیں کہ تم ساری عمر بیوہ رہو۔اگر خود اپنی مرضی سے کوئی شادی کرنا چاہتی ہے تو قرآنی حکم کے مطابق اسے شادی کرنے دو۔کسی بیوہ کو شادی سے روکنا بھی بڑی بیہودہ اور گندی رسم ہے اور اس کو اپنے اندر سے ختم کرو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو تین مرتبہ فرمایا۔اے علی ! جب نماز کا وقت ہو جائے تو دیر نہ کرو۔اور اسی طرح جب جنازہ حاضر ہو یا عورت بیوہ ہو اور اس کا ہم کفول جائے تو اس میں بھی دیر نہ کرو۔(ترمذی۔کتاب الصلواة ـ باب فى الوقت الاوّل ) تو اس میں آپ نے دو باتوں کو جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں عبادت کے ساتھ رکھا ہے۔نماز جو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے اس کی عبادت کرنا ایک فرض ہے اور عبادت کی غرض سے ہی