خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 912 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 912

$2004 912 مسرور اس بارے میں ایک روایت آتی ہے۔ابو مسعود انصاری کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا۔( کسی بات پر کوئی غلطی کی ہوگی۔) میں نے اپنے پیچھے سے آنے والی ایک آواز سنی جو یہ تھی کہ ابن مسعود جان لو کہ اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو۔میں نے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ فرمانے والے رسول اللہ لیتے تھے۔چنانچہ میں نے کہایا رسول اللہ !میں اسے اللہ کی خاطر آزاد کرتا ہوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزادانہ کرتے تو تمہیں دوزخ کا عذاب پہنچتا۔(مسلم کتاب الايمان باب صحبة المماليك وكفارة مَنْ لَطَمَ عَبْدَه) تو دیکھیں ایک غلام کو مارکھا تا دیکھ کر آپ کا دل کس طرح تڑپا ہے۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ دیکھوں کہ اس غلام کا قصور کیا ہے جس کو مار پڑ رہی ہے۔مار جائز پڑ رہی ہے یا نا جائز پڑ رہی ہے۔بلکہ غلام کو مارکھا تا دیکھ کر آپ برداشت نہ کر سکے۔صحابہ بھی آپ کے مزاج کو سمجھتے تھے اس لئے ابو مسعودؓ نے فوراً کہا کہ میں اس کو آزاد کرتا ہوں۔سمجھ گئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے بچنے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اس غلام کو آزاد کر دیا جائے۔تو اس طرح آپ غلاموں سے سلوک کرتے اور ان کو آزدای دلواتے تھے۔ان کا شرف قائم کرتے تھے، ان کی عزت نفس قائم کرتے تھے۔پھر غیروں کے بچوں سے آپ کا حسن سلوک ہے۔عام طور پر اپنے بچوں کو تو آدمی پیار کر ہی لیتا ہے لیکن دوسروں کے بچوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔لیکن آپ تو قوم کے ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے تھے۔جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر آپ اپنے گھر والوں کی طرف چل پڑے۔میں بھی آپ کے ہمراہ ہولیا۔پس آپ کا استقبال بچوں نے کیا۔چنانچہ آپ ان بچوں میں سے ہر ایک کے کلوں پر باری باری پیار کرنے لگے۔جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کلوں پر بھی