خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 913
$2004 913 خطبات مسرور شفقت سے ہاتھ پھیرا۔میں نے آپ کے ہاتھوں کی ٹھنڈک اور خوشبو اس طرح محسوس کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو عطار کے عطر دان سے نکالا ہو۔(مسلم کتاب الفضائل باب طيب ريحه صلى الله ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اسامہ بن زید دروازے سے ٹکرا گئے جس کی وجہ سے ان کی پیشانی پہ زخم آ گیا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اس کا زخم صاف کر کے اس کی تکلیف دور کرو۔چنانچہ میں نے اس کا زخم صاف کیا اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بہلاتے ہوئے شفقت اور محبت کا اظہار فرماتے رہے۔اور فرمایا کہ اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے عمدہ عمدہ کپڑے پہناتا اور اسے زیور پہناتا یہاں تک کہ میں اس پر مال کثیر خرچ کرتا۔(مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار حدیث سید عائشه رضی الله عنها صفحه (53 تو اس کو بہلاتے رہے اور اس کی دلجوئی فرماتے رہے۔آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ غلام زادہ ہے۔غلام کا بیٹا ہے یا کسی امیر آدمی کا بچہ ہے بلکہ غریبوں سے زیادہ بڑھ کرحسن سلوک اور پیار کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔پھر حضرت اسامہ بن زیڈ سے ہی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنے ایک زانو پر بٹھا لیتے اور دوسرے پر حسن کو۔یعنی جب بیٹھے ہوتے تو ران پہ ایک طرف حضرت حسن کو بٹھا لیتے اور دوسرے پر مجھے پھر ہم دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیتے اور فرماتے : " اللهم ارْحَمْهُمَا فَإِنِّى أَرْحَمْهُمَا اے اللہ ان دونوں پر رحم فرمانا۔میں ان دونوں سے شفقت رکھتا ہوں۔(بخاری کتاب الادب باب وضع الصبى على الفخذ)۔اپنے لاڈلے نواسے اور اسامہ میں کوئی تخصیص نہیں کی۔یہ نہیں دیکھا کہ یہ غلام کا بیٹا ہے۔ایک غریب آدمی کے بچے کو بھی وہی مقام دیا جو اپنے نواسے کو۔پھر دونوں کے لئے دعا بھی ایک طرح کے جذبات کے ساتھ کی۔ظاہری طور پر ایک طرح کا سلوک بعض لوگ کر لیتے ہیں لیکن اگر دعا میں فرق بھی ہو جائے تو کوئی