خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 911
$2004 911 خطبات مسرور کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ بہت رحیم وکریم ہے۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے۔اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مُرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلو د زندگی سے نجات دیں۔پھر فرماتے ہیں : ” مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے۔اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ میری خدمت کرتے ہیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ۔فرمایا کہ: ” یہ ہے نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا۔اور یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گرد و پیش رہتے ہیں اس لئے اگر کسی کے انکسار و فروتنی اور تحمل و برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے۔فرمایا کہ آج کل کیا ہوتا ہے۔بعض مرد یا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمتگار سے ذرا کوئی کام بگڑا۔مثلاً چائے میں نقص ہوا تو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کر دیا۔یعنی کوئی چیز دے کے مارنا شروع کر دیا۔ذرا شوربے میں نمک زیادہ ہو گیا بس بیچارے خدمت گاروں کی آفت آئی۔(ملفوظات جلد نمبر 4 صفحه 437 الحكم 10 نومبر 1905 )۔اگر کبھی کسی غریب یا خادم پر ظلم ہوتا آپ دیکھ لیتے تو آپ کا دل تڑپ جایا کرتا تھا۔اس زمانے میں تو غلام خریدے جاتے تھے اور مالکانہ حقوق اور مالکیت اس کی ہوتی تھی۔اور اس کی ذات پر مکمل حق اور تصرف سمجھا جاتا تھا۔اور رواج کے مطابق جو چاہے سلوک بھی کر لو اس کو بُرا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اور اسلام سے پہلے تو غلاموں کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے رکھا جاتا تھا۔بلکہ بعض دفعہ تو جانوروں سے بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔غلاموں کو بھی بحیثیت انسان جو شرف اور مقام دلوایا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دلوایا ہے۔