خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 799 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 799

$2004 799 خطبات مسرور و سکیں۔ان کے نام کے چندے دوبارہ جاری نہ کئے جاسکیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بہتوں کے حالات اب ایسے ہیں کہ ان کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے کہ اپنے بزرگوں کے چندے دوبارہ ینا شروع کر دیں۔بہر حال دفتر تحریک جدید نے بھی حضور کے توجہ دلانے پر کوشش کی تھی اور ان پانچ ہزاری مجاہدین میں سے چونتیس سو کے کھاتے دوبارہ جاری ہو گئے تھے، ان کے نام کے چندے دیئے جانے لگ گئے تھے۔لیکن پھر لوگوں کی عدم توجہ کی وجہ سے یا کچھ لوگوں کے باہر نکل جانے کی وجہ سے یا اور کچھ وجوہات سے پھر اس طرف توجہ کم ہوگئی۔ہوسکتا ہے کہ باہر آ کے کچھ لوگ چندے اپنے بزرگوں کے نام پر دیتے بھی ہوں لیکن باہر کے ملکوں میں یہ ادائیگیاں ان کے بزرگوں کے نام میں شمار نہیں ہوتیں۔اور اگر ہوتی بھی ہیں تو مرکز میں کیونکہ ریکارڈ ہے وہاں درج نہیں ہوتیں۔اور ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے بزرگوں کے نام پر ادائیگی کر رہے ہوں اور آپ کے نام پر یہ ادائیگی شامل کی جا رہی ہو۔تو جیسا کہ میں نے کہا کیونکہ ریکارڈ مرکز میں ہے اس لئے ایسے بزرگوں کی اولادیں اپنے بزرگوں کے کھاتے اگر زندہ کرنا چاہتی ہیں تو وہ سہولت اسی میں ہے کہ مرکز ربوہ سے رابطہ کریں کہ ان کی کیا کیا رقم تھی یا وعدے تھے اور وہیں ادائیگی کی کوشش کریں تا کہ ریکارڈ درست رہے۔کیونکہ اب جیسا کہ میں نے کہا یہ چونتیس سو جو کھاتے تھے ان میں سے بھی توجہ کم ہوتی چلی گئی ہے اور پھر یہ اب اکیس سو کے قریب رہ گئے ہیں۔اس لئے بہت توجہ کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جن بزرگوں کے کھاتے کوئی زندہ نہیں کرتا ان کے حساب میں کوئی چندہ نہیں دیتا، ان کے اس وقت کے مطابق جو چند روپوں میں ادائیگی ہوتی تھی، (پانچ دس روپے میں ) یا ویسے بھی ان کا نام زندہ رکھنے کے لئے ٹوکن کی صورت میں ہو سکتی ہے۔فرمایا تھا کہ پانچ روپے کے حساب سے ایک ہزار کی میں ذمہ واری اٹھا تا ہوں۔میں اپنے ذمے لیتا ہوں اگر ان کی اولادیں ان کے نام کے ساتھ چندہ نہیں دے سکتیں۔آپ نے یہ