خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 798 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 798

$2004 798 خطبات مسرور موعودؓ نے شروع کی تھی اس کے لئے اس زمانے کے لوگوں نے بے انتہا قربانیاں دیں۔اور آپ نے شروع میں فرمایا تھا کہ یہ تحریک دس سال کے لئے ہو گی۔پھر جب دس سال ختم ہو گئے تو آپ نے اس کو مزید بڑھا دیا اور پھر اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق یہ مستقل تحریک بن گئی۔اور آج ہم جو دنیا کے مختلف ممالک میں احمدیت کی ترقی کے نظارے دیکھ رہے ہیں یہ ان پہلے لوگوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے۔جماعتی ترقی کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انفرادی طور پر بھی اُن لوگوں کی قربانیوں کو ضائع نہیں کیا۔اُن لوگوں نے اُس وقت جو چند آنوں اور روپوں کی قربانیاں دی تھیں ان میں سے اکثر کی اولادیں آج بڑی آسودہ حال اور بہتر حالات میں ہیں لاکھوں کما رہی ہیں۔مالی لحاظ سے بڑی اچھی حالت میں ہیں۔بعض ان میں سے شاید ایسے بھی ہوں گے جو تحریک جدید کے اس وقت کے بجٹ کے مطابق شاید آج کل انفرادی طور پر بھی چندہ دے دیتے ہوں۔لیکن ان لوگوں کی قربانیاں بھلائی نہیں جاسکتیں۔اسی لئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اظہار کیا تھا کہ تحریک جدید کے جو شروع کی قربانی کرنے والے ہیں ان کے کھاتوں کو تا قیامت زندہ رکھا جائے ، ہمیشہ جاری رکھا جائے اور ان کی اولادیں یہ کام اپنے سپر د لیں ، اس ذمہ داری کو اٹھائیں اور ان کے کھاتے کبھی مرنے نہ دیں۔وہ پانچ ہزار مجاہدین جو تھے ان کے کھاتے کبھی نہ مریں۔شروع میں وہ پانچ ہزار تھے اس کے لئے دو دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے تحریک کی کہ ایسے لوگوں کی اولادیں کچھ ہوش کریں اور آگے آئیں اور اپنے بزرگوں کے کھاتے جو فوت ہو گئے ، جنہوں نے قربانیاں دیں، ان کھاتوں کو دوبارہ زندہ کریں۔ان کے نام رجسٹروں میں رہنے چاہئیں۔ان کے نام کا چندہ جاری رہنا چاہئے۔چند روپے ہی تھے وہ لیکن ان کا نام بہر حال رہنا چاہئے۔اور یہ تا قیامت رہنا چاہئے۔آپ نے فرمایا تھا کہ اس وقت ان میں سے اکثریت یہ لوگ پانچ دس روپے ہی دینے والے تھے۔ایسا مشکل کام نہیں ہے کہ یہ کھاتے دوبارہ زندہ نہ کئے جا