خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 800 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 800

$2004 800 خطبات مسرور بھی فرمایا تھا کہ اور اس طرح لوگ آگے آئیں اور ذمہ داری اٹھا ئیں۔اور اپنے بارے میں یہ فرمایا کہ میرے بعد میری اولا دامید کرتا ہوں اس کام کو جاری رکھے گی۔تو بہر حال آپ کو بھی دفتر نے توجہ نہیں دلائی یار ریکارڈ درست نہیں رکھا، ہو سکتا ہے کہ اپنے چندوں میں شامل کر کے آپ ان لوگوں کے لئے چندے دیتے رہے ہوں لیکن بہر حال ریکارڈ میں یہ بات نظر نہیں آ رہی کہ آپ کا وعدہ تھا۔اس لئے ان کی اس خواہش کی تکمیل میں ان کا جو اکیس سالہ دور خلافت تھا جس حساب سے بھی حضرت خلیفتہ مسیح الرابع نے فرمایا تھا، اپنے خطبے میں ذکر کیا تھا۔اب دفتر تحریک جدید کومیں کہتا ہوں کہ یہ ا حساب مجھے بھجوا دیں۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کی اولاد اس کی ادائیگی کر دے گی۔جو بھی ان کا حساب بنتا ہے، ان ایک ہزار بزرگوں کا۔بہر حال اگر اولا د نہیں بھی کرے گی تو میں ذمہ واری لیتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ ادا کر دوں گا۔اور اسی حساب سے دفتر ایسے تمام لوگوں کے کھاتوں کے بارے میں مجھے بتائے جن کے کھاتے ابھی تک جاری نہیں ہوئے تاکہ ان کی اولادوں کو توجہ دلائی جاتی رہے۔لیکن جب تک ان کی اولادوں کی اس طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی ، اسی حساب سے جو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کھاتے ٹوکن کے طور پر زندہ رکھنے چاہئیں، ان لوگوں کی ادائیگی میں اپنے ذمے لیتا ہوں، انشاء اللہ تعالیٰ میں ادا کروں گا۔اور جب تک زندگی ہے اللہ تعالیٰ توفیق دے ادا کرتا رہوں گا اس کے بعد اللہ میری اولا د کو توفیق دے۔لیکن یہ لوگ جن کی قربانیوں کے ہم پھل کھا رہے ہیں۔ان کے نام بہر حال زندہ رہنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کی اولا دوں کو تو فیق دے۔یا درکھیں کہ یہ فیض، فضل، جیسا کہ میں نے کہا ان لوگوں کی قربانیوں کی ہی وجہ سے ہے جو آج ہم پر ہے۔اور آج آپ کی اس قربانی کی وجہ سے اسی طرح بڑھ کر یہ فیض اور فضل آپ کی نسلوں میں ، آپ کی اولادوں میں جاری ہو جائے گا۔