خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 672 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 672

$2004 672 خطبات مسرور ہیں ان باتوں کو بھول جاؤ اور صلح صفائی کرو، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں تو فرمایا کہ ایسا شخص کذاب نہیں کہلائے گا۔چاہے اس کے علم میں تھا کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کی برائیاں کی ہوتی ہیں وہ بھی اس کے علم میں آجاتی ہیں لیکن کیونکہ صلح کروانے کی کوشش کرنی ہے اس لئے وہاں صرف اچھی باتیں جو کی ہوتی ہیں وہی بتاؤ۔اور برائیاں بتانے کی ضرورت نہیں۔فساد اور جھگڑے کو ہوا دینے کی ضرورت نہیں۔لیکن بعض ایسے فتنہ پرداز بھی ہوتے ہیں، تجربے میں آتے ہیں، باتوں کا مزا لینے کے لئے آپس میں دو اشخاص کو لڑا کر بھی بعضوں کو مزا آ رہا ہوتا ہے وہ دیکھنے کے لئے کہ یہ کس طرح لڑتے ہیں۔اگر ایک سے دوسرے کے خلاف کوئی بات سنیں گے تو پھر اور اس کو مرچ مصالحہ لگا کر ، دوسرے کو بتاتے ہیں۔تو ایسے لوگ فتنہ پرداز تو ہیں ہی لیکن ساتھ جھوٹے بھی ہیں اس لئے ہمیشہ معاشرے کی اصلاح کے لئے ایک دوسرے کی نیک باتوں کو ایک دوسرے تک پہنچانا چاہئے فرمایا اور مشورے بھی ہمیشہ بھلائی کے دو، ایسے مشورے دو جو صلح کے مشورے ہوں، نیکی اور خیر کے مشورے ہوں اور جھوٹے کے بارے میں تو یہی ہے، ایک تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، پھر اور بھی بہت ساری سزا ئیں ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر اس دن میں جس پر سورج طلوع ہوتا ہے لوگوں کے ہر عضو پر صدقہ ہے۔اگر تو دو بندوں کے درمیان عدل کرتا ہے تو یہ صدقہ ہے۔اگر کسی شخص کو اس کی سواری پر سوار کرنے میں مدد کرتا ہے یا اس کا سامان اس پر لادنے میں مدد کرتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے اچھی بات بھی صدقہ ہے۔اور ہر قدم تو جو نماز پڑھنے کے لئے جاتے ہوئے اٹھاتا ہے صدقہ ہے۔اور اگر تو رستہ سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹادیتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے۔تو یہاں اچھی بات کہنے کا، بھلائی کی بات کہنے کا صلح صفائی کی بات کہنے کا بھی وہی ثواب