خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 489

$2004 489 خطبات مسرور مجالس کا میں نے ذکر کیا ، آنحضرت ﷺ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ کس قسم کی مجالس ہیں جن میں ہمیں بیٹھنا چاہئے۔اور مجالس کے حقوق کیا ہیں اور آداب کیا ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے، رسول اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجالس تین قسم کی ہوتی ہیں۔سلامتی والی ، غنیمت والی یعنی زائد فائدہ دینے والی اور ہلاک کرنے دینے والی مجالس“۔(مسند احمد باقی مسند المكثرين مسند ابی سعید الخدری تو جیسا کہ پہلے بھی ذکر گزر چکا ہے کہ ایسی مجلسوں سے ہمیشہ بچنا چاہئے جو دین سے دور لے جانے والی ہوں ، جو صرف کھیل کود میں مبتلا کرنے والی ہوں۔ایسی مجلسیں جو اللہ تعالیٰ سے دُور لے جانے والی مجلسیں ہیں وہ یہی نہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں بلکہ بعض دفعہ مکمل طور پر بعض دفعہ کیا یقینی طور پر انسان کی ہلاکت کا سامان پیدا کر دیتی ہیں۔اس لئے ہمیشہ ایسی مجالس کی تلاش رہنی چاہئے جہاں سے امن وسکون اور سلامتی ملتی ہو۔تو سلامتی والی مجالس کیسی ہیں۔اس بارے میں ایک روایت ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ ہم نشیں کیسے ہوں۔کن لوگوں کی مجلس میں ہم بیٹھیں۔اس پر آپ نے فرمایا ”مَنْ ذَكَرَ كُمُ اللَّهَ رُؤْيَتُهُ وَزَادَ فِي عِلْمِكُمْ مَنْطِقُهُ وَذَكَّرَ كُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ، یعنی ان لوگوں کی مجلس میں بیٹھو جن کو دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے اور جن کی گفتگو سے تمہارا دینی علم بڑھے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔(ترغیب) تو ایسی مجالس سے ہی سلامتی ملتی ہے جہاں ایسے لوگ ہوں جہاں خدا کا ذکر ہورہا ہو، اس کے دین کی عظمت کی باتیں ہورہی ہوں۔ایسے مسائل پیش کئے جارہے ہوں اور ایسی دلیلیں دی جارہی ہوں جن سے انسان کا اپنا دینی علم بھی بڑھے اور دعوت الی اللہ کے لئے دلائل بھی میسر آئیں۔اور قرآن کریم کا عرفان بھی حاصل ہو رہا ہو۔اور ایسی باتیں ہوں جن سے صرف اس دنیا کی چکا چوند ہی نہ دکھائی دے بلکہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس دنیا کو چھوڑ کر بھی جانا ہے۔اس لئے ایسے عمل ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہوں۔