خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 490

$2004 490 مسرور صلى الله پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی قوم مسجد میں کتاب اللہ کی تلاوت اور باہم درس و تدریس کے لئے بیٹھی ہو تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔رحمت باری ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے جلو میں لے لیتے ہیں۔(سنن الترمذى كتاب القراءت باب ما جاء ان القرآن انزل على سبعة أحرف) تو ایسی نیک مجالس ہیں جو سلامتی کی مجلسیں ہیں۔ان میں عام گھر یلو مجالس، اجتماعات ،اور جلسے بھی ہو سکتے ہیں۔جماعت احمد یہ خوش قسمت ہے کہ اس میں ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونے کی وجہ سے اس قسم کے مواقع میسر آتے رہتے ہیں۔اب انشاء اللہ تعالیٰ یہاں کا جلسہ بھی آنے والا ہے اس سے بھی بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کی بارش ہم پر پڑتی رہے۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور وہاں ذکر الہی نہیں کرتے وہ اپنی اس مجلس کو قیامت کے روز حسرت سے دیکھیں گے۔(مسند احمد مسند المكثرين من الصحابة مسند ابي هريرة تو ایسے لوگ جن کو ایسے مواقع بھی مل جاتے ہیں سفر کر کے خرچ کر کے جلسے پر بھی آتے ہیں۔لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنی مجلسیں جما کر ہنسی ٹھٹھے اور گئیں مار کر چلے جاتے ہیں۔ان کو سوچنا چاہئے اور اس حدیث کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے اس لئے جو بھی جلسے پر آنے والے ہیں اس نیت سے آئیں کہ ان دنوں میں خاص طور پر اپنی زبانوں کو ذکر الہی سے تر رکھیں گے۔پھر ایک روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کچھ لوگ اکٹھے ہوں اور بغیر اللہ کا ذکر کئے الگ ہو جائیں تو ضرور ان کا حال ایسا ہی ہے گویا کہ وہ مردہ گدھے کے پاس سے واپس آرہے ہیں۔اور ان کی مجلس ان کے لئے افسوسناک بات بن جائے گی۔(ابو داؤد كتاب الآداب باب في كفارة المجلس) گویا ایسی مجالس جو ہوں تو دینی اغراض کے لئے لیکن ان کی برکات سے فیضیاب نہ ہورہے ہوں، ان سے فائدہ نہ اٹھارہے ہوں اور اپنی علیحدہ مجلسیں لگانے کی وجہ سے ان کا یہ حال ہو رہا ہے کہ بجائے اس کے کہ ان دینی مجالس سے فائدہ اٹھائیں۔جہاں اللہ اور رسول کا ذکر ہو رہا ہے الٹا مردار کی بد بو لے کر واپس جارہے ہوتے ہیں، یعنی بجائے فائدے کے نقصان اٹھارہے