خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 488

$2004 488 خطبات مسرور ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت کریں۔آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جب تم کسی قوم کی مجلس میں جاؤ اور انہیں اپنے مزاج کی باتیں کرتے پاؤ تو وہاں ٹھہرو۔اور اگر وہ ایسی باتوں میں مشغول ہوں جنہیں تم نا پسند کرتے ہو تو اس مجلس کو چھوڑ دیا کرو“۔(مسند احمد اوّل مسند الكوفيين حديث حرملة العنبرى) تو یہاں بھی مختلف قسم کے لوگ ہیں، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ہیں ان یورپین ممالک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی آجکل تو معاشرہ اتنا مکس اپ (Mixup) ہو گیا ہے، آپ سے تعلق بھی بنتے ہیں ، رابطے بھی ہوتے ہیں تو ایسے رابطوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسی دوستیاں اب قائم ہو جائیں اور دوستیاں بڑھانے کی خاطر ان لوگوں کی ہر قسم کی فضول مجلسوں میں بھی شامل ہوا جائے۔جیسا کہ حدیث میں آیا کہ جہاں مزاج کے مطابق بات نہ ہو۔اس مجلس سے اٹھ جانا چاہئے۔جہاں صرف شور شرابا اور نہو ہا ہورہا ہے۔بلا وجہ غل غپاڑا مچایا جارہا ہے۔یہاں نو جوانوں میں اکثر بلا وجہ شور مچانے کی عادت ہے۔پھر غلط قسم کی لڑکوں اور لڑکیوں کی دوستیاں ہیں تو ان سے ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ بچیں ان لوگوں میں تو یہ عادت اس وجہ سے بھی ہے کہ ان کو دین کا پتہ کچھ نہیں ، ان کا دین کا خانہ خالی ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے مزے کا نہیں پتہ ، اس لئے وہ اپنی باتوں میں ، اس شور شرابے میں ، سکون اور سرور تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔مگر ہمارے نو جوانوں کو ہمارے لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ سے ملنے کے راستے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانے میں سکھاد ئیے ہیں۔اس لئے ہمیشہ ایسی مجلسیں جو ہو ولعب کی مجلسیں ہوں، فضول قسم کی مجلسیں ہوں اور تاش اور ناچ گانے وغیرہ کی مجلسیں ہوں ،شراب وغیرہ کی مجلسیں ہوں ، ان سے بچتے رہنا چاہئے۔اگر انسانیت کی ہمدردی ہے تو یہ کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ ان لوگوں کو بھی ان چیزوں سے بچانے کے لئے صحت مند کھیلوں کی طرف لائیں۔لیکن ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں۔جن دو