خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 324
$2004 324 خطبات مسرور اس طرح پورے 100 قتل ہو گئے ، پھر اسے ندامت ہوئی ،شرمندگی ہوئی اور اس نے کسی بڑے عالم کے متعلق پوچھا پھر اسے ایک بڑے عالم کا پتہ بتایا گیا وہ اس کے پاس آیا اور کہا اور میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے تو اس نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں تو بہ کا دروازہ کیسے بند ہو سکتا ہے اور تو بہ کرنے والے اور اس کی توبہ قبول ہونے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے۔تم فلاں علاقے میں جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوں گے اور دین کے کام کر رہے ہوں گے تم بھی ان کے ساتھ اس نیک کام میں شریک ہو جاؤ اور ان کی مدد کر و نیز اپنے اس علاقے میں واپس نہ آنا کیونکہ یہ برا اور فتنہ خیز علاقہ ہے چنانچہ وہ اس سمت میں چل پڑا لیکن ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ موت نے اسے آلیا ، تب اس کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے ، رحمت کے فرشتے کہتے تھے کہ اس شخص نے توبہ قبول کر لی ہے اور اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا ہے اس لئے ہم اسے جنت میں لے جائیں گے۔عذاب کے فرشتے کہتے کہ اس نے کوئی نیک کام نہیں کیا یہ کیسے بخشا جا سکتا ہے تو اسی اثناء میں اس کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیا اور اس کو انہوں نے اپنا ثالث مقرر کر لیا اس نے ان دونوں کی باتیں سن کر کہا کہ جس علاقے سے یہ آ رہا ہے اور جس کی طرف یہ جا رہا ہے دونوں کا درمیانی فاصلہ ناپ لو اس میں سے جس علاقے سے وہ زیادہ قریب ہے وہ اسی علاقے کا شمار ہوگا۔پس انہوں نے فاصلہ ماپا تو اس علاقے کے زیادہ قریب پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا۔اس پر رحمت کے فرشتے اسے جنت کی طرف لے گئے۔(مسلم کتاب التوبة - باب قبول توبة القاتل۔۔۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی بخشش کے طریق که نیک نیتی سے اس کی طرف بڑھو، تو بہ کر و استغفار کروتو وہ یقینا تمہیں اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے گا۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بزرگ فرشتے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں ذکر کی مجالس کی تلاش رہتی ہے جب وہ کوئی ایسی