خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 325
$2004 325 خطبات مسرور مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو تو وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ساری فضا ان کے سایہ برکت سے معمور ہو جاتی ہے جب لوگ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ کہاں سے آئے ہو، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے، تو فرشتے جواب دیتے ہیں کہ ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح کر رہے تھے، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے تیری عبادت میں مصروف تھے اور تیری حمد میں رطب اللسان تھے اور تجھ سے دعائیں مانگ رہے تھے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں۔اس پر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ تجھ سے تیری جنت مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ نہیں اے میرے رب ! انہوں نے تیری جنت دیکھی تو نہیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان کی کیا کیفیت ہوگی اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیں۔پھر فرشتے کہتے ہیں وہ تیری پناہ چاہتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے وہ کس چیز سے میری پناہ چاہتے ہیں۔فرشتے اس پر کہتے ہیں تیری آگ سے وہ پناہ چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں دیکھی تو نہیں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا کیا حال ہوتا اگر وہ میری آگ کو دیکھ لیں، پھر فرشتے کہتے ہیں وہ تیری بخشش طلب کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو انہوں نے مجھ سے مانگا۔اور میں نے ان کو پناہ دی جس سے انہوں نے میری پناہ طلب کی اس پر فرشتے کہتے ہیں اے ہمارے رب ان میں فلاں غلط کار شخص بھی تھاوہ وہاں سے گزرا اور ان کو ذکر کرتے ہوئے دیکھ کر تماش بین کے طور پر ان میں بیٹھ گیا اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس کو بھی بخش دیا۔کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور بد بخت نہیں رہتا۔(مسلم کتاب الذکر ـ باب فضل مجالس الذكر)۔تو اللہ تعالیٰ نے راہ چلتے تماش بین کو وہاں بیٹھنے کی وجہ سے بھی بخش دیا کیونکہ اس وقت اس کے کانوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی آواز پہنچ رہی تھی۔ہماری مساجد میں حدیث کے درس ہوتے ہیں یا مختلف ملفوظات وغیرہ کے اجلاسات ہیں، اجتماعات ہیں تو ان میں پہلے سے بڑھ کر ہماری