خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 323

$2004 323 خطبات مسرور گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہونے پر۔تو جب اللہ تعالیٰ کو ہمارا اس قدر خیال ہے تو ہمیں کس قدر بڑھ کر اس سے محبت کرنی چاہئے۔اور اس کے آگے جھکنا چاہئے۔اس کے احکامات پر عمل کرنا چاہئے۔اس کے انبیاء کی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے حضور تو بہ کرتے ہوئے جھکنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان تمام باتوں پر عمل کرنے والے ہوں۔حضرت جندب روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم فلاں آدمی کو اللہ نہیں بخشے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کون ہے جو مجھ پر پابندی لگائے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا۔میں نے اسے بخش دیا ہاں ( یہ جو کہنے والا ہے ) خوداس شخص کے اعمال ضائع ہو گئے جس نے ایسا کہا۔(مسلم كتاب البر والصلة باب النهي عن تقنيط الانسان من رحمة الله تو بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ بیٹھ کر باتیں کر دیتے ہیں اپنی نیکیوں کے زعم میں فتوے لگا دیتے ہیں کہ فلاں گناہ گار ہے، فلاں یہ ہے، فلاں وہ ہے، اور یہ بخشا نہیں جاسکتا۔تو بخشایا نہ بخشایہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔بندے کا کام نہیں۔اور خدا تعالیٰ کا کام کسی بندے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ایسی باتیں کر کے سوائے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہوں اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے 99 قتل کئے تھے آخر اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی اور اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھا تا کہ وہ اس سے گناہ سے تو بہ کرنے کے بارے میں پوچھے تو اسے ایک تارک الدنیا عابد زاہد کا پتہ بتایا گیا وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے 99 قتل کئے ہیں کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے تو اس عابد اور زاہد نے کہا ایسے آدمی کی تو بہ کیسے قبول ہوسکتی ہے اور اتنے بڑے گناہ کیسے معاف ہو سکتے ہیں اس پر اس نے اس کو بھی قتل کر دیا