خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 108

$2004 108 خطبات مسرور تو استغفار بہت پڑھو۔خدا تعالی تمہیں بچالے گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ء ـ بحواله حقائق الفرقان جلد دوم صفحه ٦٥) حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن میں جھوٹ اور خیانت کے سوا تمام بری عادتیں ہو سکتی ہیں۔(مسنداحمد بن حنبل) اب جھوٹ ایک بہت بڑی برائی ہے۔اس کو چھوڑنے سے تمام قسم کی برائیاں چھٹ جاتی ہیں۔تو یہاں یہ فرمایا کہ خیانت بھی جھوٹ کی طرح کی برائی ہے۔کیونکہ خائن ہمیشہ جھوٹا ہوگا۔اور جھوٹا ہمیشہ خائن ہوگا۔فرمایا کہ اصل میں تو یہ دو بڑی برائیاں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو دوسری چھوٹی چھوٹی برائیاں ویسے ہی ختم ہو جاتی ہیں اور انسان خود بخو دان کودور کر لیتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ر کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں“۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۳۴۹ مطبوعہ بیروت) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کو ( عند الطلب) امانت لوٹا دو جس نے تمہارے پاس امانت رکھی تھی اور اُس شخص سے بھی خیانت نہ کرو جو تجھ سے خیانت کرتا ہے۔(سُنن الترمذى أَبَوَابُ الْبُيُوْع) بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی کے پیسے ہم اس لئے نہیں دے رہے کہ اس شخص نے فلاں وقت میں ہمارے ساتھ لین دین میں خیانت کی۔تو فرمایا کہ نہیں ،اگر کسی نے خیانت کی بھی تھی اور پھر اس نے تمہارے پر اعتماد کر کے کوئی چیز تمہارے پاس امانت کے طور پر رکھوائی ہے تو تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اس کی امانت دبا لو۔اگر وہ واپس مانگے تو اس کو بہر حال ادا کرو۔تو تمہارے ساتھ پہلے کا لین دین ہے اس کے بارہ میں جو بھی قانونی چارہ جوئی کرنی ہے کرو۔یا اگر نہیں کرنا چاہتے اور خدا پر معاملہ چھوڑنا ہے تو چھوڑو لیکن یہ حق بہر حال نہیں پہنچتا کہ کسی کی دی ہوئی امانت کو اس لئے دبالو کہ اس نے تمہارے ساتھ خیانت کی تھی۔اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے ایمان کو ضائع کرنے والے بنو گے۔