خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 107

107 $2004 خطبات مسرور کی طرف سے بحث نہ کر جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں۔یقینا اللہ سخت خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔تو یہاں مزید کھلا کہ اللہ تعالیٰ یہ بات بالکل پسند نہیں کرتا کہ جو خائن ہے، چور ہے ، غلط کام کرنے والا ہے ، اس کی حمایت کی جائے چاہے جتنے مرضی اونچے خاندان سے ہو، جتنے مرضی اونچے مقام کا ہو۔اور قطع نظر اس کے کہ کس کی اولاد ہے اگر وہ خیانت کا مرتکب ہوا ہے تو اس کو سزاملنی چاہئے۔اور آنحضرت ﷺ کا اسوہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ اگر تم نے ایسے لوگوں سے رعایت کی تو نہ صرف تم اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے ہو گے بلکہ اپنے بھائیوں کو بھی نقصان پہنچار ہے ہو گے کیونکہ ایسے شخص کو جب ایک دفعہ معاف کر دیا جائے تو اس کو جرات پیدا ہوتی ہے اور یہی عموماً سامنے آتا ہے کہ پھر ایسے لوگ دھو کے دیتے رہتے ہیں۔اگر تمہارا بھائی، بیٹا یا اور عزیز رشتہ دار ہے تو اس کی خیانتوں کی وجہ سے لوگوں کے نقصان پورے کرتے رہوگے کیونکہ قریبی عزیز کو سزا سے بچانے کے لئے اور اپنی عزت کو بچانے کے لئے بعض دفعہ جن کو احساس ہو وہ نقصان پورے کرتے ہیں۔بے چاروں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔تو جب اس طرح جرمانے بھرتے رہیں گے تو پھر اپنا بھی ساتھ نقصان کر رہے ہوں گے۔تو فرمایا کہ ایسے سخت خیانت کرنے والے گنہ گار کو اللہ پسند نہیں کرتا اس لئے تم بھی اس کو چھوڑ دو، اس کو سزا لینے دو۔ہو سکتا ہے کہ اس دفعہ یہ سزا اس کی اصلاح کا باعث ہو جائے۔لیکن اگر ایسے لوگوں کی حمایت کی تو ایسا شخص تمہارے ساتھ جماعت کی بدنامی کا باعث بھی بنتا رہے گا۔پھر خیانت کی مختلف شکلیں ہیں۔اور مختلف طریقوں سے لوگ خیانت کرتے رہتے ہیں۔اس کی وضاحت میں اب احادیث سے کرتا ہوں لیکن اس سے پہلے حضرت خلیفہ امسیح الاول کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔فرمایا: وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِيْنَ خَصِيْمًا: شریر کی طرف سے حمایت کا بیڑا کبھی نہیں اٹھانا چاہئے۔خائن کی طرف سے بھی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔اگر کسی عزیز رشتہ دار کی مصیبت پڑ جاوے۔