خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 109
$2004 109 مسرور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔وہ نہ اس کی خیانت کرتا ہے اور نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت ، اس کا مال اور اس کا خون حرام ہے۔( حضور نے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) تقویٰ یہاں ہے۔کسی شخص کے شر کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے “۔(سنن الترمذی۔کتاب البر والصلة) پھر حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ اس شخص کو سر سبز و شاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے اسی طرح آگے پہنچایا کیونکہ بہت سارے ایسے لوگ جنہیں بات پہنچائی جاتی ہے وہ خود سننے والے سے زیادہ اسے یا درکھنے والے ہوتے ہیں۔تین امور کے بارہ میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا اور وہ تین یہ ہیں۔خدا تعالیٰ کی خاطر کام میں خلوص نیت، دوسرا ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی اور تیسرے جماعت مسلمین کے ساتھ مل کر رہنا۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تین باتیں جو بیان کی گئی ہیں کسی مسلمان میں ہوں تو اس کو جائزہ لینا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس میں یہ تین باتیں ہوں وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔اب پہلی بات جو اس میں بیان کی گئی ہے، اس کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جو کام تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کر رہے ہو اس میں ہمیشہ خلوص نیت ہونا چاہئے۔جماعتی عہدے جو تمہیں دئے جاتے ہیں انہیں نیک نیتی کے ساتھ بجالاؤ۔صرف عہدے رکھنے کی خواہش نہ رکھو بلکہ اس خدمت کا جو حق ہے وہ ادا کرو۔ایک تو خود اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ اس خدمت کو سرانجام دو۔دوسرے اس عہدے کا صحیح استعمال بھی کرو۔یہ نہ ہو کہ تمہارے عزیزوں اور رشتہ داروں کے لئے اور اصول ہوں، ان سے نرمی کا سلوک ہو اور غیروں سے مختلف سلوک ہو،ان پر تمام قواعد لاگو ہو رہے ہوں۔ایسا کرنا بھی خیانت ہے۔پھر اس عہدے کی وجہ سے تم یا تمہارے عزیز کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے والے نہ ہوں۔مثلاً