خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 89

89 $2003 خطبات مسرور کے بھیجنے سے آنے والا ہے۔اور ایسا ہی ظہور میں آیا اور اس بات کے گواہ بھی بعض قادیان کے ہندو اور کئی سو مسلمان ہوں گے جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔اور اس قسم کے نشان دو ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ حاجات کے وقت میں میرا متولی اور متکفل ہوتا رہا ہے۔اور اکثر عادت الہی مجھ سے یہی ہے کہ وہ پیش از وقت مجھے بتلا دیتا ہے کہ وہ دنیا کے انعامات میں سے کسی قسم کا انعام مجھ پر کرنا چاہتا ہے اور اکثر وہ مجھے بتلا دیتا ہے کہ کل تو یہ کھائے گا اور یہ پیئے گا اور یہ تجھے دیا جائے گا اور ویسا ہی ظہور میں آجاتا ہے کہ جو وہ مجھے بتلاتا ہے۔اور ان باتوں کی تصدیق چند ہفتہ میرے پاس رہنے سے ہر ایک شخص کر سکتا ہے“۔(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۰۰،۱۹۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تیرے لئے میں زمین پر اترا اور تیرے لئے میرا نام چمکا اور میں نے تجھے تمام دنیا میں سے چن لیا۔اور فرماتا ہے۔قال ربك انـــه نـازل من السماء مايُرضيك۔یعنی تیرا خدا کہتا ہے کہ آسمان سے ایسے زبر دست معجزات اُتریں گے جن سے تو راضی ہو جائے گا۔۔۔افسوس اس زمانہ کے منجم اور جوتشی ان پیشگوئیوں میں میرا ایسا ہی مقابلہ کرتے ہیں جیسا کہ ساحروں نے موسیٰ نبی کا مقابلہ کیا تھا۔اور بعض نادان ملہم جو تاریکی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں وہ بلغم کی طرح میرے مقابلہ کے لئے حق کو چھوڑتے اور گمراہوں کو مدددیتے ہیں مگر خدا فرماتا ہے کہ میں سب کو شرمندہ کرونگا اور کسی دوسرے کو یہ اعزاز ہر گز نہیں دونگا۔ان سب کے لئے اب وقت ہے کہ اپنے نجوم یا الہام سے میرا مقابلہ کریں۔اور اگر کسی حملہ کو اب اٹھا رکھیں تو وہ نامراد ہیں۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان سب کو شکست دوں گا اور میں اس کا دشمن بن جاؤں گا جو تیرا دشمن ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اپنے اسرار کے اظہار کے لئے میں نے تجھے ہی برگزیدہ کیا ہے اور زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ میرے ساتھ ہے۔“ آپ فرماتے ہیں: (تجليات الهيه _ جلد ۲۰ صفحه ۹۷،۹۸) براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہے۔يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ یعنی مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ نورِ خدا کو اپنے منہ کی پھونکوں