خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 90
$2003 90 خطبات مسرور سے بجھا دیں مگر خدا اپنے ٹور کو پورا کرے گا اگر چہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے جبکہ کوئی مخالف نہ تھا بلکہ کوئی میرے نام سے بھی واقف نہ تھا۔پھر بعد اس کے حسب بیان پیشگوئی دنیا میں عزت کے ساتھ میری شہرت ہوئی اور ہزاروں نے مجھے قبول کیا۔تب اس قدر مخالفت ہوئی کہ مکہ معظمہ سے اہلِ مکہ کے پاس خلاف واقعہ باتیں بیان کر کے میرے لئے کفر کے فتوے منگوائے گئے اور میری تکفیر کا دنیا میں ایک شور ڈالا گیا قتل کے فتوے دیئے گئے۔حکام کو اکسایا گیا۔عام لوگوں کو مجھ سے اور میری جماعت سے بیزار کیا گیا۔غرض ہر ایک طرح سے میرے نابود کرنے کے لئے کوشش کی گئی۔مگر خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق یہ تمام مولوی اور ان کے ہم جنس اپنی کوششوں میں نامراد اور ناکام رہے۔افسوس کس قدر مخالف اندھے ہیں۔ان پیشگوئیوں کی عظمت کو نہیں دیکھتے کہ کس زمانہ کی ہیں اور کس شوکت اور قدرت کے ساتھ پوری ہوئیں۔کیا بجز خدا تعالیٰ کے کسی اور کا کام ہے؟ اگر ہے تو اس کی نظیر پیش کرو۔نہیں سوچتے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا اور خدا کی مرضی کے مخالف ہوتا تو وہ اپنی کوششوں میں نامراد نہ رہتے۔کس نے ان کو نامراد رکھا؟ اسی خدا نے جو میرے ساتھ ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: (حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ٢٤٢،٢٤١) خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا اور اسی کی ذات کی مجھے قتسم ہے کہ وہ بس نہیں کرے گا جب تک میری سچائی دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔پس اے تمام لوگو! جو میری آواز سنتے ہو خدا کا خوف کرو اور حد سے مت بڑھو۔اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو خدا مجھے ہلاک کر دیتا اور اس تمام کاروبار کا نام ونشان نہ رہتا مگر تم نے دیکھا کہ کیسی خدا تعالیٰ کی نصرت میرے شامل حال ہو رہی ہے اور اس قدر نشان نازل ہوئے جو شمار سے خارج ہیں۔دیکھو کس قدر دشمن ہیں جو میرے ساتھ مباہلہ کر کے ہلاک ہو گئے۔اے بندگانِ خدا! کچھ تو سوچو کیا خدا تعالیٰ جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے؟“ تتمه حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ٥٥٤ پھر آپ کے کچھ الہامات کا ذکر ہے۔آپ نے فرمایا کہ: