خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 263
$2003 263 خطبات مسرور اس کے بعد بھلائی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے کہا پھر اس کے بعد برائی۔آپ نے فرمایا: ہاں۔میں نے کہا کیسے؟ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے۔میری سنت پر عمل نہیں کریں گے اور ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے اور بدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اس وقت میں کیا کروں۔آپ نے فرمایا: اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو حاکم کی بات کوسن اور مان خواہ وہ تیری پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے۔پس تو اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتارہ۔حیح مسلم كتاب باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ظلم کی حد تک بھی تمہارے ساتھ تمہارے عہد یداران کی طرف سے سلوک ہو رہا ہے تب بھی تم ان کی اطاعت کئے جاؤ۔آنحضرت ﷺ نے اطاعت کو اتنی اہمیت دی تھی کہ مختلف زاویوں سے امت کو اس بارہ میں سمجھاتے رہے۔چند احادیث ہیں: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو۔خواہ تم پر ایسا حبشی غلام ( حاکم بنادیا جائے ) جس کا سر منقہ کی طرح ( چھوٹا ) ہو۔(صحیح بخاری، کتاب الاحكام، باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية ) حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا وہ اللہ تعالیٰ سے ( قیامت کے دن ) اس حالت میں ملے گا کہ نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی نہ عذر۔اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے امام وقت کی بیعت نہیں کی تھی تو وہ جاہلیت اور گمراہی کی موت مرا۔(صحیح مسلم كتاب باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضر فرمایا: تنگدستی اور خوشحالی، خوشی اور ناخوشی حق تلفی اور ترجیحی سلوک، غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کوسننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔(صحیح مسلم كتاب الامارة پھر حضرت عبادہ بن ولید اپنے دادا کی روایت اپنے والد کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے