خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 262

$2003 262 خطبات مسرور آپ نے فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اُس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر خدا نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈتے تھے۔اور آپ کے لب مبارک کو متبرک سمجھتے تھے۔اگر ان میں یہ اطاعت کی تسلیم کا مادہ نہ ہوتا بلکہ ہر ایک اپنی اصلی رائے کو مقدم سمجھتا اور پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے۔میرے نزدیک شیعہ سنیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ ، ہاں یا ہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی۔کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ باہم ایک تھے اور کچھ بھی کسی سے عداوت نہ تھی۔نا سمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہن نکلی تھیں۔یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔آپ پیغمبر خدا ﷺ کی شکل و صورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی اس میں بھی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچ لیتے تھے۔اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت رسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔غرض صحابہ کی سی حالت اور حوادث کی ضرورت اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہورہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے طیار کی تھی اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور رکھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو۔باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں ، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد دوم صفحه ٢٤٦،٢٤٨ ـ زير سورة النساء آيت (٦٠) اطاعت کے بارہ میں کچھ احادیث پیش کرتا ہوں۔حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم برائی میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھلائی دی۔اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے کہا پھر