خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 264
$2003 264 خطبات مسرور آنحضرت ﷺ سے سنے اور بات ماننے کی بنیاد پر بیعت کی تھی سختی اور راحت اور خوشی اور ناخوشی میں خواہ ہمارے حق کا خیال نہ رکھا جائے اور اس بنیاد پر کہ ہم جھگڑا نہ کریں گے۔اس شخص کی سرداری میں جو اس کے لائق ہے اور ہم سچ بات کہیں گے جہاں ہوں گے۔اللہ کی راہ میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(صحیح مسلم کتاب الاماره باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية وتحريمها في المعصية) صلى الله تو آنحضرت علیہ سے زیادہ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنے والا کون تھا۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حق کا نہ خیال رکھا جائے تب بھی ہم اطاعت کریں گے۔لیکن یہاں کچھ اصول بدل رہے ہیں۔حالانکہ تمام صحابہ اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ آپ مو حق سے بڑھ کر حق ادا کرنے والے تھے اور آپ کے متعلق تو یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ کسی کے حق کا خیال نہیں رکھیں گے۔لیکن کیونکہ یہاں نظام جماعت کی بات ہو رہی ہے جس میں اس کے ماننے والوں کا اطاعت سے باہر رہنے کا ادنی سا تصور بھی برداشت نہیں ہو سکتا اس لئے یہ عہد لیا جا رہا ہے کہ ہم ہر حالت میں چاہے ہمارے حقوق کا نہ بھی خیال رکھا جارہا ہو ہم مکمل اطاعت اور فرمانبرداری کے جذبہ سے اس عہد بیعت کو نبھا ئیں گے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت معہ کسی کا حق ماررہے ہیں بلکہ اب جب جماعتی زندگی کا معاملہ آئے گا تو حق کے معیار بدلنے چاہئیں۔اب تم اپنی ذات کے بارہ میں نہ سوچو بلکہ جماعت کے بارہ میں سوچو۔اور اپنے ذاتی حقوق خود خوشی سے چھوڑو۔اور جماعتی حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرو۔یہاں وہی مضمون ہے کہ اعلیٰ چیز کے لئے ادنی چیز کو قربان کرو۔پھر جو ہمارا عہد یداریا امیر مقرر ہو گیا اب اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔اس کی اطاعت کریں اور یہ سوال نہ ا ٹھائیں کہ یہ کیوں بنایا گیا۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ برادریاں لعن طعن کرتی ہیں کہ ہمارے خاندان کے اس کے ساتھ یہ یہ مسئلے تھے اور تم اس کی اطاعت کر رہے ہو۔تو اللہ کی خاطر اس لعنت ملامت سے بالکل نہیں ڈرنا۔یہ ہے ایک اعلیٰ اور مضبوط نظام جو آنحضرت عل قائم کرنا چاہتے ہیں۔حضرت مصلح موعود اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: قرآن جس کو اطاعت کہتا ہے وہ نظام اور ضبط نفس کا نام ہے یعنی کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انفرادی آزادی کو قومی مفاد کے مقابلہ میں پیش کر سکے۔یہ ہے ضبط نفس اور یہ ہے نظام۔(تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعود رضی الله عنه جلد ١٠ صفحه ١٥٦)