خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 87

87 $2003 خطبات مسرور لگتا ہے۔اور اسی مہنیہ میں ۲۸ / تاریخ کو جو بیچ کی تاریخ ہے کیونکہ ۲۷/، ۱/۲۸اور ۲۹ کوسورج کی عموماً تاریخیں ہوتی ہیں، سورج گرہن ہوا اور مغربی اقوام پر بھی اتمام حجت کے لئے اگلے سال یہ نظارہ مغرب نے بھی دیکھا۔پھر مغرب سے سورج کے طلوع ہونے اور طاعون کے بارہ میں ایک روایت ہے: حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ : علامات قیامت کے اعتبار سے یہ نشان پہلے ہوں گے۔مغرب کی طرف سے سورج کا طلوع ہونا اور چاشت کے وقت ایک عجیب و غریب کیڑے کا لوگوں پر مسلط ہو جانا۔(سنن ابن ماجه كتاب الفتن باب طلوع الشمس من مغربها) کیڑے کا مسلط ہو جانا جو ہے یہ ہو سکتا ہے کہ طاعون یا اور کوئی وبائی جراثیمی بیماریاں یا جنگوں کی وجہ سے ان بیماریوں کی طرف اشارہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہوگا ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رؤیا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے کہ جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا۔سومیں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریر میں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدا تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہی لوگوں کو ملے۔اب خدا تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔(ازاله اوهام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ٣٧٧،٣٧٦)