خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 86

86 $2003 خطبات مسرور گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔یہ فرما کر آنحضرت مے خاموش ہو گئے۔(مسند احمد بن حنبل جلده صفحه ۲۷۳ مطبوعه بيروت و مشکواة باب الانذار والتحذير) الله اب اللہ تعالیٰ سے علم پا کر سید نا محمد ﷺ نے جو خبر دی تھی اس کے عین مطابق آپ کے۔وصال کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہوا جو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تک چلی اور اس کے بعد ایذارساں بادشاہت اور حکمران اور جابر بادشاہت قائم ہوگئی۔پھر مخبر صادق ﷺ کی خبر کے مطابق چودھویں صدی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور پھر ان کی وفات کے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ کا دوبارہ قیام ہوا۔اللہ کرے یہ قیامت تک قائم رہے۔پھر ایک خبر چاند اور سورج گرہن لگنے کے بارہ میں تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں۔اِنَّ لِمَهْدِينا ايتين لم تكـونـا مـنذ خلق السموت والارض ينكسف القمر لاوّل ليلة من رمضان و تنكسف الشمس في النّصف منه - یعنی ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں۔اور جب سے زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اُس کی اوّل رات میں ہوگا۔یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا۔یعنی اسی رمضان کے مہینے کی اٹھائیسویں تاریخ کو۔اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا۔صرف مہدی معہود کے وقت اس کا ہونا مقدر ہے۔اب تمام انگریزی اور اردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گذر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے۔“ (حقيقه الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۲۰۲) چنانچہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، یہ ۱۸۹۴ء میں یہ گرہن لگا۔چاند کی تاریخوں میں سے ۱۳ / تاریخ کو کیونکہ ۱۴/۱۳ اور ۱۵ تاریخ کو چاند کو گرہن