خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 77
77 $2003 خطبات مسرور چاہیے کہ ہر ایک نفس دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا تیاری کی ہے۔انسان کے ساتھ ایک نفس لگا ہوا ہے جو ہر وقت مبدل ہے۔کیونکہ جسم انسانی ہر وقت تحلیل ہورہا ہے۔جب اس نفس کے واسطے جو ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے اور اس کے ذرات جدا ہوتے جاتے ہیں، اس قدر تیاریاں کی جاتی ہیں اور اس کی حفاظت کے واسطے سامان مہیا کئے جاتے ہیں۔تو پھر کس قدر تیاری اس نفس کے واسطے ہونی چاہیے جس کے ذمہ موت کے بعد کی جواب دہی لازم ہے۔اس آنی فنا والے جسم کے واسطے جتنا فکر کیا جاتا ہے۔کاش کہ اتنا فکر اس نفس کے واسطے کیا جاوے جو کہ جواب دہی کرنے والا ہے۔إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُون : اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔اس آگاہی کالحاظ کرنے سے آخر کسی نہ کسی وقت فطرت انسانی جاگ کر اسے ملامت کرتی ہے اور گناہوں میں گرنے سے بچاتی ہے۔“ (بدر۔۳ار دسمبر ۱۹۰۶ صفحہ۹) وو ھر حقائق الفرقان میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول قفر ماتے ہیں: وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴾ : تقویٰ کا علاج بتایا کہ تم یہ یقین رکھو کہ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا اور ان سے خبر رکھنے والا بھی کوئی ہے۔حقائق الفرقان جلد ۲ صفحه (۸۵ پھر آپ نے فرمایا: ” مومن کو چاہیے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔انسان غضب کے وقت قتل کر دینا چاہتا ہے۔گالی نکالتا ہے۔مگر وہ سوچے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔اس اصل کو مد نظر رکھے تو تقویٰ کے طریق پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی۔نتائج کا خیال کیونکر پیدا ہو۔اس لئے اس بات پر ایمان رکھے کہ ﴿ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ جو کام تم کرتے ہو، اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔انسان اگر یہ یقین کرے کہ کوئی خبیر وعظیم بادشاہ ہے جو ہر قسم کی بدکاری ، دغا ، فریب، سستی اور کاہلی کو دیکھتا ہے اور اس کا بدلہ دے گا، تو وہ بچ سکتا ہے۔ایسا ایمان پیدا کرو۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے فرائض نوکری ، حرفہ، مزدوری وغیرہ میں سستی کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے رزق حلال نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ سب کو تقویٰ کی توفیق دے۔66 (الحکم- ۲۱ تا ۲۸/مئی ۱۹۱۱ ء- صفحه (٢٦)