خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 78
78 $2003 خطبات مسرور اب اس ضمن میں ایک اور مسئلہ جو آج کل عائلی مسئلہ رہتا ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی اس بارہ میں توجہ دلائی جاتی ہے بچیوں کی طرف سے کہ سسرال یا خاوند کی طرف سے ظلم یا زیادتی برداشت کر رہی ہیں۔بعض دفعہ لڑکی کولڑکے کے حالات نہیں بتائے جاتے یا ایسے غیر واضح اور ڈھکے چھپے الفاظ میں بتایا جاتا ہے کہ لڑکی یا لڑکی کے والدین اس کو معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن جب آپ بیچ میں جائیں تو ایسی بھیانک صورتحال ہوتی ہے کہ خوف آتا ہے۔ایسی صورت میں بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکا تو شرافت سے ہمدردی سے بچی کو، بیوی کو گھر میں بسانا چاہتا ہے لیکن ساس یا نندیں اس قسم کی سختیاں کرتی ہیں اور اپنے بیٹے یا بھائی سے ایسی زیادتیاں کرواتی ہیں کہ لڑکی بیچاری کے لئے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔یا تو وہ علیحدگی اختیار کر لے یا پھر تمام عمر اس ظلم کی چکی میں پستی رہے۔اور یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ بعض صورتوں میں جب اس قسم کی زیادتیاں ہوتی ہیں، جب لڑکی بحیثیت بہو اختیارات اس کے پاس آتے ہیں تو پھر وہ ساس پر بھی زیادتیاں کر جاتی ہے اور اس پر ظلم شروع کر دیتی ہے۔اس طرح یہ ایک شیطانی چکر ہے جو ایسے خاندانوں میں جو تقویٰ سے کام نہیں لیتے جاری رہتا ہے۔حالانکہ نکاح کے وقت جب ایجاب و قبول ہوتا ہے، تقویٰ اور قول سدید کے ذکر والی آیات پڑھ کر اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایسا جنت نظیر معاشرہ قائم کرو اور ایسا ماحول پیدا کرو کہ غیر بھی تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں۔لیکن گو چند مثالیں ہی ہوں گی جماعت میں لیکن بہر حال دکھ دہ اور تکلیف دہ مثالیں ہیں۔اب یہ جو آیت جس کی تشریح ہو رہی ہے یہ بھی نکاح کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات میں سے ایک آیت ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی ا للہ عنہ نے فرمایا کہ ہر بات سے پہلے، ہر کام سے پہلے سوچے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔اور جو کام تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔خیال ہوتا ہے زیادتی کرنے والوں کا کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا۔ہم گھر میں بیٹھے کسی کی لڑکی پر جو مرضی ظلم کرتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔تو پھر اگر یہ خیال دل میں رہے کہ اللہ تعالیٰ اگر دیکھ رہا ہے اور اللہ کو اس کی خبر ہے تو حضور (حضرت خلیفتہ اسیح الاول ) فرماتے ہیں کہ ان برائیوں سے بچا جاسکتا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی گھرانہ خاوند ہو یا بیوی، ساس ہو یا بہو بند ہو یا بھا بھی تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے والی اور ایک حسین معاشرہ قائم کرنے والی ہوں۔