خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 76
$2003 76 خطبات مسرور پھر آپ (حضرت خلیفتہ المسیح الاول) فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس کو چاہئے کہ دیکھتا ر ہے کہ کل کے لئے اس نے کیا کیا۔اور تقویٰ اپنا شعار بنائے۔اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس سے خوب آگاہ ہے۔غرض دنیا و عقبی میں جس کامیابی کا ایک گر بتایا کہ انسان کل کی فکر آج کرے۔اور اپنے ہر قول وفعل میں یہ یادر کھے کہ خدا تعالیٰ میرے کاموں سے خبر دار ہے۔یہی تقویٰ کی جڑھ ہے۔اور یہی ہر کامیابی کی روح رواں ہے۔برخلاف اس کے انجیل کی یہ تعلیم ہے جو (متنی ) باب ۶ آیت ۳۳ میں مذکور ہے بایں الفاظ کہ کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرے گا۔آج کا دُکھ آج کیلئے کافی ہے۔اگر ان دونوں تعلیموں پر غور کریں تو صرف اسی ایک مسئلے سے اسلام و عیسائیت کی صداقت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ایک نیک دل، پارسا ، طالب نجات ، طالب حق خوب سمجھ لیتا ہے کہ عملی زندگی کے اعتبار سے کون سا مذ ہب احق بالقبول ہے۔اگر انجیل کی اس آیت پر ہم کیا، خود انجیل کے ماننے والے عیسائی بھی عمل کریں تو دنیا کی تمام ترقیاں رُک جائیں اور تمام کاروبار بند ہو جائیں۔نہ تو بجٹ بنیں۔نہ ان کے مطابق عمل درآمد ہو۔نہ ریل گاڑیوں اور جہازوں کے پروگرام پہلے شائع ہوں۔نہ کسی تجارتی کارخانے کو اشتہار دینے کا موقعہ ملے۔نہ کسی گھر میں کھانے کی کوئی چیز پائی جائے۔اور نہ غالب بازاروں سے مل سکے۔کیونکہ کل کی تو فکر ہی نہیں، بلکہ فکر کرنا گناہ ہے۔برخلاف اس کے قرآن مجید کی تعلیم کیا پاک اور عملی زندگی میں کام آنے والی ہے۔اور لطف یہ ہے کہ عیسائیوں کا اپنا عمل درآمد بھی اسی آیت پر ہے ورنہ آج ہی سے سب کا روبار عالم بند ہو جائیں اور کوئی نظام سلطنت قائم نہ رہے۔قرآن پاک کی تعلیم وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ﴾ پر عمل کرنے سے انسان نہ صرف دنیا میں کامران ہوتا ہے بلکہ عقبی میں بھی خدا کے فضل سے سرخرو ہوگا۔ہم کبھی آخرت کے لئے سرمایۂ نجات جمع نہیں کر سکتے جب تک آج ہی سے اس دار القرار کے لئے تیاری نہ شروع کر دیں۔“ (تشحيذ الاذهان جلد ۷ نمبر ٥ صفحه ۲۲۷-۲۲۸) پھر حضرت طلیقہ مسیح الاول نفرماتے ہیں: