خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 574
574 $2003 خطبات مسرور اس انتہا تک یا اتنی باریکی میں جا کر غیبت سے بچنے کی کوشش ہم نہیں کریں گے اس وقت تک ہم حسین اسلامی معاشرہ قائم نہیں کر سکتے ، جس کا دعویٰ کر کے ہم اٹھے ہیں۔اور اسی طرح اپنی عاقبت بھی نہیں سنوار سکتے۔غیبت کرنے والا کا حال تو آپ نے دیکھ ہی لیا سن لیا کیا ہوتا ہے۔پھر حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : انسان بعض اوقات بے خیالی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی کوئی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بے انتہا بلند کر دیتا ہے اور بعض اوقات وہ لا پرواہی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی کوئی بات کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔(بخاری کتاب الرقاق باب حفظ اللسان۔۔۔۔۔۔الله حضرت ابو عمامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن آدمی کے پاس اس کا کھلا ہوا اعمال نامہ لایا جائے گا۔وہ اس کو پڑھے گا، پھر کہے گا اے میرے رب میں نے دنیا میں فلاں فلاں نیک کام کئے تھے وہ تو اس میں نہیں ہیں۔تو اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے وہ نیکیاں تمہارے نامہ اعمال سے مٹادی گئی ہیں۔ترغيب و الترهيب) دیکھیں غیبت کی وجہ سے وہ تمام نیک کام نماز، روزے،صدقے کسی غریب کی خدمت کرنا، سب نیکیاں نامہ اعمال سے مٹادی گئیں صرف اس لئے کہ وہ لوگوں کی غیبت کرتا تھا۔اس بارہ میں جتنی بھی احادیث پڑھیں ، خوف بڑھتا چلا جاتا ہے اس کا ایک ہی علاج ہے کہ آدمی ہر وقت استغفار کرتا رہے۔امام غزائی کہتے ہیں (اس کا خلاصہ یہ ہے ) کہ جس کے پاس چغلی کی جائے اسے چاہئے کہ وہ چغل خور کی تصدیق نہ کرے اور نہ جس کے بارہ میں چغلی کی گئی ہے اس سے بدظن ہو۔(فتح البیان جلد نمبر ۱۰ صفحه ٤٣٧ اب یہ بڑے ہی پتے کی بات ہے جو امام غزالی نے بیان فرمائی ہے اور افسران اور عہد یداران کو خاص طور پر یہ ذہن میں رکھنا چاہئے۔کبھی بات یک طرفہ بات سن کر کسی کے خلاف نہیں ہو جانا چاہئے کسی سے بدظن نہیں ہونا چاہئے اور ہمیشہ تحقیق کرنی چاہئے اور صحیح طریقے پر تحقیق کرنی چاہئے ، گہرائی میں جا کر تحقیق کرنی چاہئے ، پھر کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔اور عموماً یہی ہوتا ہے کہ