خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 573
573 $2003 خطبات مسرور جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ یاد آجائے اور اللہ تعالیٰ کے بُرے بندے غیبت اور چغلیاں کرتے پھرتے ہیں، دوستوں پیاروں کے درمیان تفریق ڈالتے ہیں، نیک پاک لوگوں کو تکلیف، مشقت ،فساد، ہلاکت اور گناہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی مرد وعورت کو اس سے بچائے۔(مسند احمد بن حنبل مسند الشاميين جلد ۵ صفحه (٢٦٨ پھر حدیث ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” ستم میں سے سب سے زیادہ میرے محبوب وہ ہیں جو بہترین اخلاق کے حامل ہوں ، نرم خو ہوں، وہ لوگوں سے انس رکھتے ہوں اور لوگ ان سے مانوس ہوں اور تم میں سب سے زیادہ مبغوض میرے نزدیک چغل خور ، دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور بے گناہ لوگوں پر تہمت لگانے والے ہیں۔(ترغیب و ترهیب جلد ۳ مطبوعه كتاب الادب الترغيب في الخلق۔۔۔۔۔۔۔۔صلى الله پھر حدیث ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب مجھے معراج ہوا تو کشفا میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اس سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔میں نے پوچھا، جبرائیل یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ ، لوگوں کا گوشت نوچ نوچ کر کھایا کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو سے کھیلتے تھے یعنی غیبت کرتے تھے ، الزام تراشیاں کرتے تھے ، حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔(ابوداؤد كتاب الادب باب في الغيبة تو دیکھیں یہ کتنا خوفناک منظر ہے۔غیبت کرنے والوں کی مرنے کے بعد کی سزا کتنی خوفناک ہے۔انسان عام طور پر بعض دفعہ بے احتیاطی میں باتیں کر جاتا ہے۔بعض اوقات نیست نہیں بھی ہوتی کہ چغلی یا غیبت ہو لیکن آنحضرت ﷺ اس معاملہ میں اتنے محتاط تھے اور اس حد تک گہرائی میں اور باریکی میں جاتے تھے کہ جہاں ذرا سا شائبہ بھی ہو کہ بات غیبت کے قریب ہے تو سخت کراہت فرماتے تھے اور فور استنبیہ فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت کے بارہ میں کہا کہ وہ چھوٹے قد کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا تم نے غیبت کی ہے۔اب کتنی بار یکی میں جا کے بھی آپ تنبیہ فرمارہے ہیں۔کتنا خوف کا مقام ہے، کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے۔جب