خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 575

575 $2003 خطبات مسرور اکثر تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو چغلی کرنے والے ہیں ان لوگوں کی اکثر رپورٹیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔کہ سب کچھ غلط تھا، صرف چغلی کی گئی تھی ، غیبت کی گئی تھی اور مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح اس کو نقصان پہنچایا جائے۔پھر یہ بھی ہے کہ آئندہ ایسے شخص سے محتاط رہیں۔اس کی گواہی قبول نہ کریں، اس کی کسی رپورٹ پر کان نہ دھر ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : اسلام نے غیبت کی ممانعت کے متعلق جو حکم دیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ بسا اوقات انسان دوسرے کے متعلق ایک رائے قائم کر لیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس رائے میں حق بجانب بھی سمجھتا ہے۔(وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ٹھیک رائے قائم کی ہے لیکن درحقیقت اس کی یہ رائے صحیح نہیں ہوتی )۔فرمایا کہ میں نے بیسیوں دفعہ دیکھا ہے کہ ایک شخص کے متعلق ایک رائے قائم کر لی گئی کہ یہ ایسا ہی ہوگا اور یہ بھی یقین کر لیا جاتا ہے کہ میری رائے بھی درست ہے لیکن ہوتی غلط ہے۔اور اگر ایسی صورت میں اگر کوئی دوسرا شخص سامنے بیٹھا ہوگا۔اگر تو دوسرا شخص جس کے بارہ میں رائے قائم کی گئی ہے وہ سامنے بیٹھا ہو اور اس سے پوچھا جائے تو لازما وہ اپنی بریت ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا اور کہے گا کہ تمہیں میرے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے، میرے اندر یہ نقص نہیں پایا جا تا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ خواہ کسی کے نزدیک کوئی بات سچی ہو جب وہ کسی شخص کی عدم موجودگی میں بیان کرتا ہے اور وہ بات ایسی ہے کہ جس سے اس کے بھائی کی عزت کی تنسیخ ہوتی ہے یا اس کے علم کی تنسیخ ہوتی ہے یا اس کے رتبہ کی تنسیخ ہوتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث کی رو سے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس طرح اس نے اپنے بھائی کو اپنی برات پیش کرنے کے حق سے محروم کر دیا۔(تفسیر کبیر جلد ۹ صفحه (۵۷۹ حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے چغلی کرنے اور چغلی سننے دونوں سے منع فرمایا ہے۔(مجمع الزوائد جلد ۸ صفحه ۹۱ باب ماجاء في الغيبة والنمية) | جیسے کہ پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ بعضوں کو ایسی مجلسوں میں بیٹھ کر ہنسی مذاق سننے کی عادت پڑتی ہے اور آہستہ آہستہ چغلی کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔تو چغلی سنے کو بھی منع فرمایا ہے۔