خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 572

572 $2003 خطبات مسرور دین کی خدمت کر رہی ہیں ، نہ کوئی اور ان کو کام ہے، اس غیبت کی بیماری میں مبتلا ہیں۔اسی طرح مردوں کی بھی شکایات آتی ہیں۔مجلسوں میں بیٹھ کر لوگوں کے متعلق بات کر رہے ہوتے ہیں۔تو ایسے بھی مرد ہیں۔یہ وہی ہیں جن کو نکھے بیٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کے بیوی بچے بے چارے کما کر گھر کا خرچ چلا رہے ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کو شرم بھی نہیں آ رہی ہوتی۔بہر حال یہ بیماری چاہے عورتوں میں ہو یا مردوں میں اس سے بچنا چاہئے۔نظام جماعت کو بھی چاہئے خدام، لجنہ وغیرہ، اس بارہ میں فعال ہونا چاہئے۔کیونکہ یہ بیماری دیہاتی ،ان پڑھ اور فارغ عورتوں میں زیادہ ہے اس لئے لجنہ کو خاص طور پر ، دنیا میں ہر جگہ ، مؤثر لائحہ عمل اس کے لئے تجویز کرنا چاہئے۔پھر ان باتوں کے علاوہ جن کی نشاندہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے یہ بھی بیماری پیدا ہو گئی ہے کہ فارغ وقت میں اسی طرح لوگوں کے گھروں میں بے وقت چلی جاتی ہیں۔اور اگر کسی غریب نے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے کہ اس طرح اندر گھستی ہیں گھروں میں کہ ان کے کچن تک میں چلی جاتی ہیں۔کھانوں کی ٹوہ لگاتی ہیں کہ کیا پکا ہے کیا نہیں پکا۔اور پھر بجائے ہمدردی کے یا ان کی مدد کرنے کے، یا کم از کم ان کے لئے دعا کرنے کے ، مجلسوں میں باتیں کی جاتی ہیں کہ پیسے بچاتی ہے، سالن کی جگہ چٹنی بنائی ہوئی ہے یا پھر اتنا تھوڑ اسالن تھا، یا فلاں تھا، یہ تھا، وہ تھا، کنجوس ہے۔وہ کنجوس ہے یا جو بھی ہے وہ اپنا گھر چلا رہی ہے جس طرح بھی چلا رہی ہے تمہارا کیا کام ہے کہ کسی کے گھر کے اندر گھس کر اس کے عیب تلاش کرو۔اور پھر جب ایسے سفید پوش لوگوں کے گھروں میں بچیوں کے رشتے آتے ہیں تو پھر ایسی عورتیں Active ہو جاتی ہیں ، بڑی فعال ہو جاتی ہیں اور جہاں سے کسی کا رشتہ یا پیغام آیا ہو وہاں پہنچ کر کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔وہاں سے تمہیں جہیز بھی نہیں مل سکتا۔اس لڑکی میں فلاں نقص ہے۔تو میں تمہیں بتاتی ہوں فلاں جگہ ایک اچھا رشتہ ہے، یہاں نہ کرو وہاں کرو۔گو جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے، معمولی ہے، پھر بھی فکر کی بات ہے کیونکہ جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں وہ ایسا ہی ہے اور یہ معاشرہ بہر حال اثر انداز ہوتا ہے اور یہ باتیں بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ایک حدیث ہے جو ایسے لوگوں کے بارہ میں ہی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن غنم اور حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی کے پسندیدہ بندے وہ ہیں کہ