خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 571

$2003 571 خطبات مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدَكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا یعنی چاہئے کہ ایک تمہارا دوسرے سے گلہ مت کرے۔کیا تم پسند کرتے ہو کہ مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔(لیکچر لاهور روحانی خزائن جلد نمبر ٢٠ صفحه ١٥٦) اب گلہ کرنا ، شکوہ کرنا بھی غیبت والی بات ہی ہے۔کیونکہ ایک دفعہ جب مشتر کہ دوستوں میں بیٹھ کے شکایتیں شروع ہو گئیں تو پھر آہستہ آہستہ یہی شکوے شکایتیں جو ہیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اور پھر غیبت کی عادت پڑ جاتی ہے۔اس لئے ہلکی سے ہلکی بھی جس میں شائبہ بھی ہو غیبت کا ، وہ بات نہیں کرنی چاہئے۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : غیبت کرنے والے کی نسبت قرآن کریم میں ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔عورتوں میں یہ بیماری بہت ہے۔آدھی رات تک بیٹھی غیبت کرتی ہیں اور پھر صبح اٹھ کر وہی کام شروع کر دیتی ہیں۔لیکن اس سے بچنا چاہئے۔عورتوں کی خاص سورۃ قرآن شریف میں ہے۔حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے بہشت میں دیکھا کہ فقیر زیادہ تھے اور دوزخ میں دیکھا کہ عورتیں بہت تھیں۔( یعنی غریب لوگ بہشت میں زیادہ تھے اور دوزخ میں دیکھا کہ عورتیں بہت تھیں)۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ان میں سے یہ ہیں کہ شیخی کرنا کہ ہم ایسے ہیں، ایسے ہیں۔پھر قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نچلی ذات کی ہے۔پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان میں بیٹھی ہوئی ہے تو اس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارہ شروع کر دیتی ہیں کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، زیور اس کے پاس کچھ نہیں وغیرہ وغیرہ۔(بدر ٧ جون ١٩٠٦ ، ملفوظات جلد نمبر صفحه ٤٤١) یہ تو اس زمانے کی عورتوں کا حال تھا۔الحمد للہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو کر بہت بڑی تعداد عورتوں کی اس بیماری سے پاک ہو گئی ہے اور اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرتی ہیں اور بعض تو دین کی خدمت کے معاملے میں اور اس جذبے میں مردوں سے بھی آگے ہیں۔لیکن ابھی بھی بعض دیہاتوں میں، بعض شہروں میں بھی جہاں عورتیں نہ