خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 552
552 $2003 خطبات مسرور حضرت ابوبکر کا بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں۔ہم نے عرض کیا جی حضور! ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا، اللہ کا شریک ٹھہرانا (سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے )، والدین کی نافرمانی کرنا، آپ تکیے کا سہارا لئے بیٹھے ہوئے تھے ، آپ جوش میں آکر بیٹھ گئے اور بڑے زور سے فرمایا دیکھو! تیسرا بڑا گناہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے چاہا کہ کاش حضور خاموش ہو جائیں۔(بخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدين تو اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت مہ کو جھوٹ سے کس قدر نفرت تھی۔اور آپ کی ہر تعلیم ہی اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق تھی۔تو اصل میں جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ شرک اور جھوٹ ایک ہی چیز ہیں۔انسان نے اپنے اندر بھی بہت سے بُت بنائے ہوتے ہیں۔اور بہت سے جھوٹ کے بُت بنائے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: آج کی دنیا کی حالت بہت نازک ہوگئی ہے۔جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں ، جھوٹے مقدمہ کرنا تو بات ہی کچھ نہیں، جھوٹے اسناد بنالئے جاتے ہیں۔( یعنی کا غذات بھی جھوٹے بنالئے جاتے ہیں ، مقدمے بھی جھوٹے بنالئے جاتے ہیں، پیشیاں بھی جھوٹی ، گواہیاں بھی جھوٹی ، ہر چیز جھوٹی )۔کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے۔اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا۔(وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی کوئی ضرورت نہیں، ان سے اگر کوئی پوچھے ) کہ کیا یہ وہی دین تھا جو آنحضرت سے لے کر آئے تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پر ہیز کرو۔اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ النُّوْرِ ﴾ بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بت بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بُت پرست بُت سے نجات چاہتا ہے۔( یعنی وہ سمجھتا ہے کہ بُت اسے نجات دے گا اس کے مسائل سے )۔اسی طرح جھوٹ