خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 553
$2003 553 خطبات مسرور بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بُت پرست ہوتے ہو، اس نجاست کو چھوڑ دو۔تو کہتے ہیں کیونکر چھوڑ دیں، اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہو گی کہ جھوٹ پر اپنامدار سمجھتے ہیں مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخریچ ہی کامیاب ہوتا ہے، بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔(ملفوظات جلد نمبر ۸ صفحه (٣٤٩ - ٣٥٠ وہ سمجھتے ہیں کہ جو انہوں نے اپنے دلوں میں بت بنائے ہوئے ہیں اس کے ذریعہ سے ہی نجات ہے۔اور یہ بہت بھی بہت سی قسموں کے ہیں، مختلف ملکوں میں مختلف لوگوں نے قسما قسم کے مختلف بُت اپنے دلوں میں قائم کئے ہوئے ہیں۔مختلف پیشوں میں سچ کی کمی اور جھوٹ کی زیادتی نظر آتی ہے۔تو یہ اس طرح کا بت ہی ہے جو انہوں نے اپنے دل میں قائم کیا ہوا ہے۔اور جب پوچھو تو یہ کہتے ہیں ، جیسا کہ حضور بھی فرما رہے ہیں، کہ اس کے بغیر تو یہ کام ہو ہی نہیں سکتا، اگر جھوٹ نہ بولا جائے۔مثلاً وکالت ہے، ایک بڑا قابل احترام پیشہ ہے اگر صحیح طرح اختیار کیا جائے ، استعمال کیا جائے۔لیکن بعض وکیلوں کو بھی یہ عادت ہوتی ہے کہ اگر کوئی سیدھا سادا کیس بھی ہو تو اس کو بھی ایسے طریقے سے پیش کریں گے کہ اس میں جھوٹ کی ملونی کی وجہ سے بعض دفعہ اس کے مؤکل کو نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے، اس کا نقصان کروا دیتے ہیں۔یہاں یورپین ملکوں میں بھی اب احمدی آتے ہیں، اسامکم کے کیس بعض دفعہ بڑے سیدھے ہوتے ہیں اور اگر سیدھے طریقے سے ان کو حل کیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ حل ہو بھی جائیں لیکن بلا وجہ ایسے باتوں میں الجھاتے ہیں کہ اچھا بھلا کیس خراب ہو جاتا ہے۔پھر بعض مؤکل سے سیدھی طرح بات ہی نہیں کرتے ، اس کو صحیح صورت حال ہی نہیں بتاتے اور بڑے عرصہ بعد جا کے جب پتہ کرو تو پتہ چلتا ہے کہ پیروی ہی نہیں ہو رہی۔اسی طرح ہمارے ملکوں میں بھی، تیسری دنیا کے ملکوں میں بھی بعض ان پڑھ لوگوں کو وکلاء بہت چکروں میں ڈالتے ہیں۔عدالت میں پیش ہی نہیں ہورہے ہوتے ، مؤکل سے فیس لے رہے ہوتے ہیں۔پھر مجرم کو بچانے کے لئے جھوٹی گواہیاں دے رہے ہوتے ہیں اور جن سے فیس لے رہے ہوتے ہیں ان سے بھی جھوٹ بول کر ٹال مٹول کر رہے ہوتے ہیں ، غلط بیانی کر رہے ہوتے ہیں۔تو یہ بہت