خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 529 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 529

$2003 529 خطبات مسرور ہوتے ہیں۔تو ان پر میں یہ واضح کر دوں کہ ہمارے نظام میں، جماعت احمدیہ کے نظام میں اگر کسی انتخاب کے وقت کسی کا نام پیش ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو ووٹ دینے کا حق بھی نہیں رکھتا۔اپنے آپ کو ووٹ دینا بھی اس بات کا اظہار ہے کہ میں اس عہدے کا حقدار ہوں۔ایسے لوگوں کو یہ حدیث پیش نظر رکھنی چاہئے۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میرے ساتھ میرے دو چچازاد بھائی تھے ان میں سے ایک بولا : یا رسول اللہ ! ہم کو ان ملکوں میں سے کسی ملک کا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے ہیں امیر مقرر کر دیجئے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا تو آپ نے فرمایا۔” اللہ کی قسم ہم ولایت کی خدمت اس کے سپرد نہیں کرتے جو اس کی درخواست کرے یا اس کی حرص کرے۔“ نے فرمایا: وو (مسلم کتاب الامارة - باب النهى عن طلب الامارة والحرص عليها پھر عبد الرحمن بن سَمُرَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے عبد الرحمن ! عہدہ اور حکومت کی درخواست مت کر کیونکہ اگر درخواست سے تجھ کو ( عہدہ یا حکومت ) ملے تو اس کا بوجھ تجھ پر ہوگا اور اگر بغیر سوال کے ملے تو خدا تعالیٰ کی نصرت شاملِ حال ہوگی۔(مسلم، كتاب الامارة ، باب النهى عن طلب الامارة و الحرص عليها حضرت مصلح موعود رضی اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے عہدے لینے کے لئے مجالس میں شامل ہوتے ہیں۔ایسے لوگ لعنت ہوتے ہیں اپنی قوم کے لئے اور لعنت ہوتے ہیں اپنے نفس کے لئے۔وہ وہی ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلوتِهِمْ سَاهُوْنَ - الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاعُوْن ﴾ (الماعون : ۵ تا ۷ ) ریا ہی ریا ان میں ہوتی ہے۔کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہوتا۔۔۔مشعل راه جلد اول صفحه ۲۰ - ۲۱ پھر حضرت مصلح موعودؓ نے کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ۔کارکنوں کو چاہئے کہ تندہی سے کام کریں۔یہ خواہش کہ ہمارا نام و نمود ہوا ایسا خیال ہے