خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 530

530 $2003 خطبات مسرور جو خراب کرتا ہے۔اس خیال کے ماتحت بہت لوگ خراب ہو گئے ہیں، ہوتے ہیں ہوتے رہیں گے۔تم اللہ سے ڈرواور اسی سے خوف کرو اور اس بات کو مدنظر رکھو کہ اس کا کام کر کے اس سے انعام کے طالب و۔۔۔۔اور لوگوں سے مدح اور تعریف نہ چاہو۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں للہیت پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور مجھے پر بھی رحم کرے۔آمین (خطبات محمود جلد ٧ خطبه فرموده ۲۲ / دسمبر ۱۹۲۲ء صفحه ٤٣٣) پھر آپ نے فرمایا کہ: افسران سلسلہ کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے اپنے اخلاق درست کریں اگر ضدی لوگ آجائیں تو ان کو بھی محبت اور پیار سے سمجھانے کی کوشش کیا کریں اور پوری محنت اور اخلاص سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔اس امر کی طرف خدا تعالیٰ نے ﴿ وَ النَّزِعَتِ غَرُقًا وَّ النَّشِطَتِ نَشْطًا (النازعات: ۳۲)۔میں اشارہ کیا اور بتایا ہے کہ مومن جب کام میں مشغول ہوتا ہے تو وہ ہمہ تن اس میں مستغرق ہوتا اور مشکلات پر قابو پالیتا ہے۔ایسی صورت میں اگر مخالفین کی طرف سے اعتراض بھی ہو تو دعاؤں سے اس کا ازالہ کرنا چاہئے اور اعتراضات سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیئے۔(خطبات محمود جلده ۱ صفحه ٢٥٧ تا ٢٦٥ پھر آپ نے عہدیداران کو فر مایا کہ: امراء اور پریذیڈنٹ اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کا درس دیں۔یہ محض وعظ نہیں ہوگا کیونکہ یہ اپنے اندر مشاہدہ رکھتا ہے۔قرآن کریم وعظ نہیں بلکہ وہ مشاہدات پر حاوی ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتب مشاہدات پر مبنی اور مشاہدات پر حاوی ہیں۔ایک عام واعظ تو یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم میں اور احادیث میں یہ لکھا ہے مگر خدا تعالیٰ کے انبیاء یہ نہیں کہتے کہ فلاں جگہ یہ لکھا ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پر یہ لکھا ہے۔ہماری زبان پر یہ لکھا ہے۔ان کا وعظ ان کی سوانح عمری ہوتا ہے اس لئے ان کی کتب پڑھنے سے واعظ والا اثر انسان پر نہیں پڑتا بلکہ مشاہدہ والا اثر پڑتا ہے۔جس طرح دعا ان نماز کا مغز ہے اسی طرح انبیاء کی کتب میں نصیحت کا مغز ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے کلام میں پایا جاتا ہے۔66 (خطبات محمود جلد ۱۱ صفحه ۲۸۳ - ٢٨٤)