خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 525

525 $2003 خطبات مسرور اور یہ زیادہ بڑا گناہ ہے بنسبت اس کے کہ عہدے سے معذرت کر دی جائے۔اس لئے ایسے عہد یدار تو اس طرح جماعت کے نظام کو ، جماعت کے وقار کو نقصان پہنچانے والے عہدیدار ہیں۔دوسرے یہ ذمہ داری ہے عہدیداران کی عام لوگوں سے ہٹ کر ، اپنے دوسرے برابر کے عہد یداروں یا ماتحت عہدیداران یا کارکنان کا احترام ہے۔یہ کوئی دنیاوی عہدہ نہیں ہے جس طرح میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں کہ جو آپ کو مل گیا ہے اور کوئی سمجھ بیٹھے کہ اب سب طاقتوں کا میں مالک بن گیا ہوں۔یہاں بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے امیر اپنی عاملہ کا احترام کریں، ان کی رائے کو وقعت دیں، اس پر غور کریں۔اسی طرح اگر کوئی ماتحت بھی رائے دیتا ہے تو اس کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھیں، کم نظر سے نہ دیکھیں۔اگر آنحضرت ﷺ کو حکم ہے کہ مشورہ کریں تو ہم ، آپ تو بہت معمولی چیز ہیں۔تو کسی کی رائے کو کبھی بھی تکبر کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔اپنا ایک وقار عہد یدار کا ہونا چاہئے اور یہ نہیں کہ غصے میں مغضوب الغضب ہو کر ایک تو رائے کو ر ڈ کر دیا اور مسجد میں یا میٹنگ میں تو تکار بھی شروع ہو جائے۔یا گفتگو ایسے لہجہ میں کی جائے جس سے کسی دوسرے عہد یدار کا یا کسی دوسرے شخص کے بارہ میں جس سے استخفاف کا پہلو نکلتا ہو، کم نظر سے دیکھنے کا پہلو نکلتا ہو۔تو ہمارے عہد یداران اور کارکنان کو تو انتہائی وسعت حوصلہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔کھلے دل سے تنقید بھی سنی چاہئے ، برداشت بھی کرنی چاہئے۔اور پھر ادب کے دائرے میں رہ کر ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے اس کا خیال رکھ کر دلیل سے جواب دینا چاہئے۔یہ نہیں کہ میں نے یہ کہہ دیا ہے اس پر عمل نہیں ہو رہا تو تم یہ ہو تم وہ ہو، یہ بڑا غلط طریق ہے۔عہدیدار کا مقام جماعت میں عہد یدار کا ہے خواہ وہ چھوٹا عہدیدار ہے یا بڑا عہدیدار ہے۔پھر قطع نظر اس کے کہ کسی کی خدمت کو لمبا عرصہ گزر گیا ہے یا کسی کی خدمت کو تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔اگر کم عمر والے سے یا عہدے میں اپنے سے کم درجہ والے سے بھی ایسے رنگ میں کوئی گفتگو کرتا ہے جس سے سبکی کا پہلو نکلتا ہو تو گو دوسرا شخص اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے ، یعنی جس سے تلخ کلامی کی گئی ہے وہ اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے، اطاعت کے جذبہ سے برداشت بھی کرلے ایسی بات لیکن اگر ایسے عہدیدار کا معاملہ جو دوسرے عہد یداران یا کارکنان کا احترام نہیں کرتے میرے سامنے آیا تو قطع نظر اس کے کہ کتنا Senior ہے اس کے خلاف بہر حال کارروائی ہوگی تحقیق ہوگی۔اس لئے آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنا بھی سیکھیں اور مشورے لینا اور مشوروں میں ان کو اہمیت دینا۔اگر اچھا مشورہ ہے تو ضروری نہیں کہ چونکہ