خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 524

524 $2003 خطبات مسرور آنے والے شامل ہوتے ہیں اور نئے آنے والوں کی بھی یہی سوچ ہونی چاہئے اور اگر بنیادی ٹرینگ ہوگی تو اس سوچ کے ساتھ جو عہدہ ملے گا تو ان کو کام کرنے کی سہولت بھی رہے گی۔تو جیسا کہ میں نے کہا ہر شخص کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے کہ اس نے نظام جماعت کا احترام کرنا ہے اور دوسروں میں بھی یہ احترام پیدا کرنا ہے۔تو خلیفہ وقت کی تسلی بھی ہوگی کہ ہر جگہ کام کرنے والے کارکنان، نظام کو سمجھنے والے کارکنان ، کامل اطاعت کرنے والے کارکنان میسر آسکتے ہیں تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل کام نظام جماعت کا احترام قائم کرنا ہے اور اس کو صحیح خطوط پر چلانا ہے۔تو اس کے لئے عہد یداران کو ، کارکنان کو دوطرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ایک تو وہ ہیں جو جماعت کے عام ممبر ہیں۔جتنے زیادہ یہ مضبوط ہوں گے ، جتنا زیادہ ہر شخص کا نظام سے تعلق ہوگا جتنی زیادہ ان میں اطاعت ہوگی ، جتنی زیادہ قربانی کا ان میں مادہ ہوگا ، اتنا ہی زیادہ نظام جماعت مضبوط ہوگا۔اور یہ چیزیں ان میں کس طرح پیدا کی جائیں۔اس سلسلہ میں عہدیداران کے فرائض کیا ہیں؟ اس کا میں اوپر تذکرہ کر چکا ہوں۔اگر وہ پیار محبت کا سلوک رکھیں گے تو یہ باتیں لوگوں میں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔اور یہی آپ کا گروہ ہے جتنا زیادہ اس کا تعلق جماعت سے اور عہد یدارن سے مضبوط ہوگا، اتنا ہی زیادہ نظام جماعت بھی آرام سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے چلے گا۔اتنازیادہ ہی ہم دنیا کو اپنا نمونہ دکھانے کے قابل ہوسکیں گے۔اتنی ہی زیادہ ہمیں نظام جماعت کی پختگی نظر آئے گی۔جتنا جتنا تعلق افراد جماعت اور عہدیداران میں ہوگا۔اور پھر خلیفہ وقت کی بھی تسلی ہوگی کہ جماعت ایسی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکی ہے جن سے بوقت ضرورت مجھے کارکنان اور عہدیداران میسر آ سکتے ہیں۔اگر کسی جگہ کچھ جماعتیں تو اعلیٰ معیار کی ہوں اور کچھ جماعتیں ابھی بہت پیچھے ہوں تو بہر حال یہ فکر کا مقام ہے۔تو عہدیداران کو اپنے علاقہ میں ، اپنے ضلع میں یا اپنے ملک میں اس نہج پر جائزے لینے ہوں گے کہ کہیں کوئی کمی تو نظر نہیں آرہی۔اپنے کام کے طریق کا جائزہ لینا ہوگا۔اپنی عاملہ کی مکمل Involvement کا یا مکمل ان کاموں میں شمولیت کا جائزہ لینا ہوگا۔کہیں آپ نے عہدے صرف اس لئے تو نہیں رکھے ہوئے کہ عہدہ مل گیا ہے اور معذرت کرنا مناسب نہیں اس لئے عہدہ رکھی رکھو اور اس سے جس طرح بھی کام چلتا ہے چلائے جاؤ۔اس طرح تو جماعتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہو گا۔اگر تو ایسی بات ہے تو یہ زیادہ معیوب بات ہے